کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 582
رہی یہ بات کہ کوئی متقی دیندار اہلِ پیشہ خود اپنے کو شیخ کہہ سکتا ہے یا لکھا سکتا ہے یا نہیں ؟ سو اس کا جواب تفصیل طلب ہے۔اگر وہ اپنے تقویٰ و دینداری یا علم و فضل کی وجہ سے اپنے کو شیخ کہنا یا لکھانا چاہتا ہے تو اس وجہ سے اپنے کو شیخ کہنا یا لکھانا ٹھیک نہیں۔ قال اللّٰه تعالیٰ {فَلاَ تُزَکُّوْٓا اَنْفُسَکُمْ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی} [النجم:۲۳] [اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:تم اپنے کو پاک و صاف نہ کہو،اﷲ پرہیزگار کو خوب جانتا ہے] اگر وہ اپنے کو شیخ لکھ کر یا کہہ کر اپنی خاص قومیت پر جو اس کو اس کے خاص پیشے کی وجہ سے حاصل ہے،پردہ ڈالنا چاہتا ہے کہ لوگ اس کو اس کی خاص قوم سے شمار نہ کریں،بلکہ اس کو کچھ اور سمجھیں تو اس خیال سے بھی اپنے کو شیخ کہنا یا لکھانا ٹھیک نہیں ہے،کیونکہ یہ ایک قسم کی تدلیس ہے اور اگر وہ اپنے کو شیخ کہنے یا لکھانے سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ یا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا اور ان کی نسل میں داخل کرتا ہے،حالانکہ وہ ان کی نسل سے نہیں ہے تو اس وجہ سے بھی اپنے آپ کو شیخ کہنا یا لکھانا جائز نہیں۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( من ادعی إلیٰ غیر أبیہ،وھو یعلم،فالجنۃ علیہ حرام )) [1] متفق علیہ۔ یعنی جو شخص جان بوجھ کر اپنے آپ کو اپنے باپ کے سوا کسی اور شخص کی طرف منسوب کرے،اس پر جنت حرام ہے۔اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ نیز فرمایا: نیز فرمایا:(( لا ترغبوا عن آبائکم فمن رغب عن أبیہ فقد کفر )) [2] متفق علیہ۔ یعنی اپنے آپ کو اپنے آبا و اجداد کی طرف منسوب کرنے سے اعراض نہ کرو،اس واسطے کہ جو شخص ایسا کرے گا وہ کافر ہوجائے گا۔اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا۔(مشکوۃ شریف باب اللعان) اگر اس کا اپنے کو مطلق شیخ یا شیخ صدیقی کہنا یا لکھانا اس وجہ سے ہے کہ اس کے آبا و اجداد نو مسلم تھے،پس ان کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک خاص مناسبت ہے،جیسا کہ علامہ آزاد بلگرامی نے ’’سبحۃ المرجان‘‘ میں علامہ محمد طاہر پٹنی کے پرپوتے شیخ عبدالقادر کے ترجمے میں لکھا ہے: ’’ومن أحفاد العلامۃ محمد طاھر الفتني:الشیخ عبد القادر بن الشیخ أبي بکر،و نظم الشیخ عبد اللّٰه المکي الشافعي أستاذہ في مدح التلمیذ قصیدۃ،یوصل فیھا نسبہ إلی الصدیق الأکبر رضی اللّٰه عنہ: [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۰۷۱) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۶۳) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۳۸۶) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۶۲)