کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 581
حاصل کلام یہ کہ پیشہ کرنے سے کوئی آدمی رذیل نہیں ہوتا۔تو اب جو آدمی مسلمان ہو یا پیشہ ماہی فروشی یا سبزی فروشی یا ندافی کا کرتا ہے اور وہ دیندار اور پرہیزگار ہے،وہ اپنے کو شیخ لکھا سکتا ہے باعتبار لغت کے،کیونکہ وہ دیندار بزرگ ہے،نیز رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتا ہے اور حضرت ابوبکر صدیق کا متبع ہے،اس لیے وہ ’’شیخ صدیقی‘‘ ہے۔جتنے نو مسلم ہوتے ہیں،وہ اس معنی سے اپنے کو شیخ صدیقی کہتے ہیں اور بنگالہ میں جس قدر نو مسلم ہوئے،کوئی دس پشت سے اور کوئی پانچ پشت سے؛ سب شیخ کہلاتے ہیں،ایسے ہی یہ دیندار جو پیشہ ماہی فروشی کا یا سبزی فروشی کا کرتا ہے،مستحق اس کا ہے کہ اپنے کو شیخ کہلائے۔واللّٰه أعلم بالصواب۔حررہ:محمد سعید عفي عنہ سید محمد نذیر حسین هو الموافق اس میں کچھ شبہہ نہیں ہے کہ کوئی دیندار اور پرہیزگار مسلمان اپنے کسی جائز پیشے کی وجہ سے رذیل اور وضیع نہیں ہوسکتا۔کیا ہی سچ کہا ہے ابو العتاہیہ شاعر نے ع ألا إنما التقویٰ ھي العز والکرم وحبک للدنیا ھو الذل والسقم ولیس علیٰ عبد تقي نقیصۃ إذا صحح التقویٰ وإن حاک أو حجم اس دیندار پرہیزگار مسلمان کو باعتبار اس کی دینداری و پرہیزگاری کے یا باعتبار اس کی فضیلت علمی کے شیخ یا خواجہ کہنا اور اس کے نام کے ساتھ اس لفظ کو استعمال کرنا بلاشبہہ جائز ہے،خواہ اس کا پیشہ ماہی فروشی یا سبزی فروشی ہو یا ندافی یا جامہ بافی ہو یا کوئی جائز پیشہ ہو۔بہت سے علماے امت و اتقیاے امت اہلِ پیشہ گزرے ہیں،جن کے علم و فضل یا صلاح و تقویٰ کی وجہ سے ان کے نام کے ساتھ شیخ یا خواجہ کا لفظ بلا نکیر استعمال کیا جاتا ہے۔اگر تم تفتیش کرو گے تو بہت سے اکابر اہلِ پیشہ کے نام کے ساتھ شیخ یا خواجہ کے لفظ کو مستعمل پاؤ گے،بلکہ جائز پیشہ والے مسلمان کو اس کے صلاح و تقویٰ و فضیلت علمی کے لحاظ سے سید کہنا بھی جائز ہے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو سید کہا ہے،چنانچہ فرمایا:’’قوموا إلیٰ سیدکم‘‘ الحدیث،[1] [اپنے سردار کے لیے کھڑے ہوجاؤ] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں: ’’قال الخطابي:في حدیث الباب جواز إطلاق السید علیٰ الخیر الفاضل‘‘[2] انتھیٰ [اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بہتر اور اچھے آدمی پر سید کا لفظ بولا جاسکتا ہے] [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۸۷۸) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۷۶۸) [2] فتح الباري (۱۱/ ۵۱)