کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 580
بننے کا کرتا ہے اور وہ دیندار،نمازی،پرہیزگار ہے۔کیا ایسا پیشہ کرنے سے وہ اپنے کو شیخ کہہ سکتا ہے یا لکھا سکتا ہے یا نہیں ؟ بینوا تؤجروا! جواب:اﷲ کے نزدیک زیادہ بزرگ پرہیزگار ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:{اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ} [الحجرات:۱۳] یعنی اﷲ کے نزدیک زیادہ بزرگ وہ ہے،جو زیادہ پرہیز گار ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سید،شیخ،مغل،پٹھان؛ یہ چار لقب معروف نہ تھے،بلکہ مشہور قبیلے تھے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم قریشی تھے،کوئی تمیمی تھا،کوئی خدری تھا اور کوئی اشجعی تھا۔بہت عرصے کے بعد لوگوں نے یہ لقب مقرر کیے۔’’غیاث اللغات‘‘ میں شیخ کے معنی یہ لکھے ہیں:شیخ بالفتح بمعنی ’’خواجہ و پیر‘‘۔صراح میں ہے:شیخ:پیر و خواجہ۔پس باعتبار معنی لغوی کے اگر یہ لوگ اپنے کو شیخ لکھیں یا لکھائیں تو کوئی حرج نہیں ہے اور پیشہ کرنے سے کوئی آدمی اپنی قومیت سے خارج نہیں ہوتا۔حضرت داود علیہ السلام زرہ بافی کا پیشہ کرتے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: {وَ عَلَّمْنٰہُ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لَّکُمْ لِتُحْصِنَکُمْ مِّنْم بَاْسِکُمْ} [الأنبیاء:۸۰] [ہم نے اس کو جنگی لباس بنانا سکھایا،تاکہ تمھاری لڑائی میں تم کو محفوظ رکھے] نیز فرمایا:{وَ اَلَنَّا لَہُ الْحَدِیْدَ . اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ} [سبا:۱۰،۱۱] [ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کر دیا اور حکم دیا کہ پوری زرہیں تیار کرو اور حلقے پرونے میں ایک ہی انداز رکھو] نیز زکریا علیہ السلام نجار یعنی بڑھئی تھے۔صحیح مسلم میں ہے: ’’عن أبي ھریرۃ أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:(( کان زکریا نجارا )) [1] [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’حضرت زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔‘‘] تاریخ خمیس (صفحہ:۷۶) میں ادریس علیہ السلام کے حال میں لکھا ہے کہ ’’کان خیاطا‘‘ یعنی حضرت ادریس علیہ السلام درزی کا پیشہ کرتے تھے۔نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم اپنی کتاب ’’سعۃ المجال‘‘ (صفحہ:۷) میں لکھتے ہیں:نبی اﷲ داود علیہ السلام اپنے ہاتھ کے کام سے کھاتے تھے،اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔داود علیہ السلام زرہ بناتے تھے،اس کا ذکر قرآن شریف میں بھی آیا ہے۔یہ حدیث دلیل ہے اس بات پر کہ انبیا اہلِ حرفہ تھے۔حرفہ میں اگر عیب ہوتا تو اﷲ تعالیٰ اپنے نبیوں کو اس سے بچاتا۔نوح علیہ السلام نجار تھے،یعنی بڑھئی،ابراہیم علیہ السلام بزاز تھے،اسماعیل علیہ السلام صیاد تھے،یعنی شکار کا پیشہ کرتے تھے۔حضرت محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم شبانی گو سفند کی کرتے تھے۔[2] [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۳۷۹) [2] سعۃ المجال إلی ما یحل ویحرم من الأرزاق والأموال (ص:۷)