کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 579
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً بسند حسن روایت کیا ہے کہ میں نے کہا:یا رسول اﷲ! طاعون کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:گلٹی ہے،جیسے اونٹ کو گلٹی ہوتی ہے،اس میں مقیم رہنے والا شہید کے مثل ہے اور اس سے بھاگنے والا لڑائی سے بھاگنے والے کی مثل ہے،نیز اس حدیث کی شاہد وہ حدیث ہے جس کو امام احمد اور ابن خزیمہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ طاعون سے بھاگنے والا لڑائی سے بھاگنے والے کی مثل ہے اور طاعون میں صبر کرنے والا لڑائی میں صبر کرنے والے کی مثل ہے۔اس کی سند متابعت کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شیخ عبد الحق محدث ’’أشعۃ اللمعات‘‘ میں اس حدیث کے تحت میں لکھتے ہیں: ’’ضابطہ در و ہمین است کہ درانجاکہ ہست نباید رفت،واز انجاکہ باشد نباید گریخت،و اگرچہ گریختن در بعض مواضع مثل خانہ کہ در وے زلزلہ شدہ یا آتش گرفتہ یا نشستن در زیر دیوارے کہ خم شدہ نزد غلبہ ظن بہلاک آمدہ است،اما در باب طاعون جز صبر نیامدہ و گریختن تجویز نیافتہ و قیاس ایں بر آن سواد فاسد است،کہ آنہا از قبیل اسباب عادیہ اند،وایں از اسباب وہمی وبر ہر تقدیر گریختن ازان جا جائز نیست و ہیچ جا وارد نہ شدہ وہر کہ بگریزد عاصی و مرتکب کبیرہ و مردود است‘‘[1] انتہیٰ [اس میں قانون یہ ہے کہ جہاں طاعون ہو،وہاں نہ جائے اور جہاں ہو،وہاں سے نہ بھاگے۔بعض حالات میں جہاں موت کا غالب گمان ہو،بھاگنا ثابت ہوتا ہے،مثلاً زلزلے کے وقت مکان سے باہر نکل جانا یا کہیں آگ لگی ہوئی ہو تو باہر چلے جانا یا اگر کوئی دیوار گرنے والی ہو تو اس سے پرے ہٹ جانا۔ایسی صورتوں میں جائز ہے،کیوں کہ ایسی صورت میں موت امورِ عادیہ میں سے ہے،لیکن طاعون میں کسی حالت میں بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے،کیوں کہ یہ اسباب وہمیہ میں سے ہے اور اس کو ان پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔بہرحال جو اس سے بھاگے گا،وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہے اور مردود ہے] المختصر ان حادیثِ صحیحہ سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ خروج فراراً من الطاعون مطلقاً منع ہے،بنا بریں جس جگہ طاعون واقع ہو،وہیں ٹھہرے رہنا ضروری ہے اور وہاں سے بھاگ کر نہ کسی دوسرے مقام میں جانا جائز ہے اور نہ اس جگہ کی سرحد کے کھیتوں اور کنوؤں پر چھپر ڈال کر جا رہنا درست ہے۔ہذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] سید محمد نذیر حسین برادری کی نسبت تبدیل کرنا درست نہیں: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ کوئی مسلمان آدمی پیشہ ماہی فروشی یا سبزی فروشی یا ندافی یا کپڑا [1] أشعۃ اللمعات (۱/۵۷۹) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۴۰۵)