کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 578
قال القاضي:ھو قول الأکثرین حتی قالت عائشۃ رضي اللّٰه عنها:الفرار منہ کالفرار من الزحف،قال:ومنھم من جوز القدوم علیہ والخروج منہ فرارا‘‘[1] یعنی اسامہ بن زید وغیرہ کی ان حدیثوں میں طاعونی مقام میں جانے کی اور اس سے طاعون سے فرار کے ارادے سے نکلنے کی ممانعت ہے،لیکن کسی اور ضرورت سے نکلنے میں کچھ مضائقہ نہیں ہے۔یہی ہمارا اور جمہور کا مذہب ہے۔قاضی نے کہا ہے:یہی اکثر کا قول ہے،یہاں تک کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ طاعون سے بھاگنا لڑائی سے بھاگنے کی مثل ہے۔بعض لوگوں نے طاعونی مقام میں جانے اور اس سے نکلنے کو جائز رکھا ہے۔ پھر امام نووی ان بعض لوگوں کے قول کو نقل کر کے لکھتے ہیں: ’’والصحیح ما قدمناہ من النھي عن القدوم علیہ والفرار منہ لظاھر الأحادیث الصحیحۃ‘‘[2] انتھیٰ یعنی صحیح وہی ہے جو ہم نے کہا ہے،یعنی طاعونی مقام میں داخل ہونا اور اس سے بھاگنا ممنوع ہے،کیونکہ ظاہر احادیث صحیحہ سے یہی ثابت ہے۔ حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں: ’’ومنھم من قال:النھی فیہ للتنزیہ،ولا یحرم،وخالفھم جماعۃ،فقالوا:یحرم الخروج منھا لظاھر النھي الثابت في الأحادیث الماضیۃ،وھذا ھو الراجح عند الشافعیۃ وغیرھم،ویؤیدہ ثبوت الوعید علیٰ ذلک،فأخرج أحمد وابن خزیمۃ من حدیث عائشۃ رضي اللّٰه عنها مرفوعا في أثناء حدیث بسند حسن:قلت:یا رسول اللّٰه فما الطاعون؟ قال:(( غدۃ کغدۃ الإبل،المقیم فیھا کالشھید،والفار منھا کالفار من الزحف )) ولہ شاھد من حدیث جابر رفعہ:(( الفار من الطاعون کالفار من الزحف،والصابر فیہ کالصابر في الزحف )) أخرجہ أحمد أیضاً وابن خزیمۃ،وسندہ صالح للمتابعات‘‘[3] یعنی بعض لوگوں نے کہا ہے کہ طاعونی جگہ سے نکلنے کی نہی جو حدیث میں آئی ہے،وہ تنزیہی ہے،پس نکلنا مکروہ ہے اور حرام نہیں ہے،جبکہ ایک جماعت نے ان لوگوں کی مخالف کی ہے اور کہا ہے کہ طاعونی مقام سے نکلنا حرام ہے بہ سبب ظاہر ممانعت کے جو گزشتہ احادیث سے ثابت ہے۔شافعیہ وغیرہم کے نزدیک یہی راجح ہے،نیز اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ طاعونی مقام سے نکلنے پر وعید ثابت ہے،چنانچہ امام احمد اور ابن خزیمہ نے حضرت [1] شرح صحیح مسلم (۱۴/ ۲۰۵) [2] مصدر سابق [3] فتح الباري (۱۰/ ۱۸۸)