کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 577
مذہب ہے۔جو لوگ اس نہی کو نہی تنزیہی کہتے ہیں،ان کا قول بے دلیل ہے۔علامہ زرقانی شرح موطا میں اس حدیث کے تحت میں لکھتے ہیں: ’’والجمھور علیٰ أنہ للتحریم حتی قال ابن خزیمۃ:إنہ من الکبائر التي،یعاقب اللّٰه إن لم یعف‘‘[1] یعنی جمہور کا یہ قول ہے کہ طاعونی جگہ سے بھاگنے کی نہی تحریمی ہے،یہاں تک کہ ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ طاعونی جگہ سے بھاگنا ان کبیرہ گناہوں میں سے ہے جن پر اﷲ تعالیٰ عذاب کرے گا،اگر اس نے معاف نہ کیا۔ نیز علامہ ممدوح شرح مواہب لدنیہ میں لکھتے ہیں: ’’وخالفھم الأکثر،وقالوا:إنہ للتحریم،حتی قال ابن خزیمۃ:إنہ من الکبائر التي یعاقب اللّٰه علیھا إن لم یعف،وھو ظاھر قولہ صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( الطاعون غدۃ کغدۃ البعیر،المقیم بھا کالشھید،والفار منہ کالفار من الزحف )) رواہ أحمد برجال ثقات،ورویٰ الطبراني وأبو نعیم بإسناد حسن مرفوعا:(( الطاعون شھادۃ لأمتي،و وخز أعدائکم من الجن،غدۃ کغدۃ البعیر،تخرج في الآباط و المراق،من مات منہ مات شھیدا،و من أقام بہ،کان کالمرابط في سبیل اللّٰه،ومن فر منہ کان کالفار من الزحف )) [2] انتھیٰ [اکثر نے ان کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ نہی تحریمی ہے،یہاں تک کہ ابن خزیمہ نے کہا ہے:یہ کبیرہ گناہوں سے ہے،اگر معاف نہ ہوا تو اس پر سزا ہو گی،نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہر الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ طاعون ایک غدود ہے،جیسے اونٹ کی غدود۔اس میں ثابت قدم رہنے والا شہید کی طرح ہے اور اس سے بھاگنے والا میدانِ جنگ سے بھاگنے والے کی طرح ہے۔ایک روایت میں ہے کہ طاعون میری امت کے لیے شہادت ہے اور یہ تمھارے دشمن جنوں کا کچوکا ہے،ایک غدود اُبھرتی ہے،جیسے اونٹ کی غدود،بغل یا گردن پر ہوتی ہے،جو اس میں مرجائے وہ شہید ہے اور جو ثابت قدم رہے،وہ غازی فی سبیل اﷲ ہے اور جو اس سے بھاگ جائے،وہ میدانِ جنگ سے بھاگنے والے کی طرح ہے] امام نووی شرح صحیح مسلم میں لکھتے ہیں: ’’وفي ھذہ الأحادیث منع القدوم علیٰ بلدۃ الطاعون،ومنع الخروج فرارا من ذلک،أما الخروج لعارض،فلا بأس بہ،وھذا الذي ذکرناہ ھو مذھبنا ومذھب الجمھور، [1] شرح الزرقاني (۴/ ۳۰۲) [2] شرح المواھب اللدنیۃ للزرقاني (۹/ ۵۲۷)