کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 572
میں ہے کہ طاعون ایک پھوڑا ہے،جو بغل اور گردن میں ہوتا ہے،اس سے مسلمان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں،یہ مسلمان کے لیے شہادت ہے۔امام منذری کہتے ہیں کہ سب کی سندیں حسن ہیں ] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سند کو حسن کہا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خروج فراراً من الطاعون مطلقاًحرام اور گناہ کبیرہ ہے،اس واسطے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں مطلق فرار من الطاعون کو فرار من الزحف سے تشبیہ دی ہے اور فرار من الزحف بہت بڑا گناہ ہے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: {یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْھُمُ الْاَدْبَارَ . وَ مَنْ یُّوَلِّھِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہٗٓ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ فَقَدْ بَآئَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ مَاْوٰہُ جَھَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ} [الأنفال:۱۵،۱۶] [یعنی اے ایمان والو! جب بھڑو تم کافروں سے میدانِ جنگ میں تو مت دو ان کو پیٹھ اور جو کوئی ان کو پیٹھ دے اس دن،مگر یہ کہ ہنر کرتا ہو لڑائی کا یا جا ملتا ہو فوج میں،سو وہ لے پھرا غضب اﷲ کا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا بری جگہ وہ جا ٹھہرا] مولانا شاہ عبد القادر ’’فائدہ‘‘ میں لکھتے ہیں:یعنی جب مقابلہ میدان میں ہو تو بھاگنا اشد گناہ ہے اور جو دوڑ یا غارت ہو تو بھاگنا ہنر ہے۔نیز رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اجتنبوا السبع الموبقات )) قالوا:وما ھن یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ؟ قال:(( الشرک باللّٰه،والسحر،وقتل النفس التي حرم اللّٰه إلا بالحق،وأکل الربا،وأکل مال الیتیم،والتولي یوم الزحف )) [1] [بچو سات چیزوں سے جو ہلاک کرنے والی ہیں۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا:یا رسول اﷲ! وہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا:شرک اﷲ کے ساتھ اور جادو کرنا اور مارنا اس جان کا جس کو اﷲ نے حرام کیا ہے مگر ساتھ حق کے اور کھانا سود کا اور کھانا یتیم کے مال کو اور پیٹھ دینا لڑائی کے دن۔۔۔الخ] علامہ عبد الرؤف مناوی شرح الجامع الصغیر میں لکھتے ہیں: ’’شبہ بہ في ارتکاب الکبیرۃ۔قال تعالی:{یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْھُمُ الْاَدْبَار} فکما یحرم الفرار من الزحف،یحرم الخروج من بلد،وقع فیھا الطاعون‘‘[2] انتھی [(طاعون سے بھاگنے کو) کبیرہ گناہ کے ارتکاب میں اس (جنگ سے بھاگنے) کے ساتھ تشبیہ دی گئی [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۶۱۵) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۹) [2] فیض القدیر (۴/ ۴۶۱)