کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 571
’’ورویٰ أحمد برجال ثقات:الطاعون غدۃ کغدۃ البعیر،المقیم بھا کالشھید،والفار منہ کالفار من الزحف‘‘ [طاعون ایک غدود (گلٹی) ہے،جیسے اونٹ کو ہوتی ہے۔اس میں ثابت قدم رہنے والا شہید کی طرح ہے اور اس سے بھاگنے والا ایسا ہے،جیسا میدانِ جنگ سے بھاگنے والا] حافظ عراقی رحمہ اللہ ’’المغني عن حمل الأسفار تخریج إحیاء العلوم‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’حدیث تشبیہ الفرار من الزحف رواہ أحمد من حدیث عائشۃ بإسناد جید،ومن حدیث جابر بإسناد ضعیف‘‘[1] انتھیٰ [طاعون سے بھاگنے والے کو جنگ سے بھاگنے سے تشبیہ دینے والی حدیث کو احمد نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے جید اسناد کے ساتھ اور جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ضعیف اسناد کے ساتھ بیان کیا ہے] حافظ منذری ترغیب و ترہیب میں لکھتے ہیں: ’’وعن عائشۃ رضي اللّٰه عنها قالت:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( لا تفنیٰ أمتي إلا بالطعن والطاعون )) قلت:یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ھذا الطعن قد عرفناہ،فما الطاعون؟ قال:(( غدۃ کغدۃ البعیر،المقیم بھا کالشھید،والفار عنھا کالفار من الزحف )) رواہ أحمد و أبو یعلیٰ والطبراني،وفي روایۃ لأبي یعلی:قال:(( وخزۃ تصیب أمتي من أعدائھم من الجن،کغدۃ الإبل۔من أقام علیھا کان مرابطا،ومن أصیب بہ کان شھیدا،و من فر منہ کان کالفار من الزحف )) ورواہ البزار،وعندہ:قلت:یا رسول اللّٰه ھذا الطعن قد عرفناہ فما الطاعون؟ قال:(( یشبہ الدمل،یخرج في الآباط والمراق،وفیہ تزکیۃ أعمالھم،وھو لکل مسلم شھادۃ )) قال المملی رضی اللّٰه عنہ:أسانید الکل حسان‘‘[2] انتھی [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری امت کی فنا طعن اور طاعون سے ہو گی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! طعن (نیزہ) تو ہم جانتے ہیں،یہ طاعون کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اونٹ کی گلٹی جیسی غدود ہے،جو اس میں ثابت قدم رہے گا،وہ شہید ہوگا اور جو اس سے بھاگے گا،وہ میدانِ جنگ سے بھاگنے کے مترادف ہو گا،ابو یعلی کی روایت میں ہے:طاعون ایک کچوکا ہے جو میری امت کے دشمن جن لگاتے ہیں،یہ اونٹ کی غدود کی طرح ہے،جو اس میں ثابت قدم رہے گا،وہ غازی ہے،جو اس میں مر جائے،وہ شہید ہے،جو اس سے بھاگے گا،وہ میدانِ جنگ سے بھاگنے والے کے برابر ہو گا اور ایک روایت [1] تخریج أحادیث إحیاء علوم الدین (۳/ ۱۲۸۸) [2] الترغیب والترھیب (۲/ ۲۲۲)