کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 570
’’وکان لہ (أی للنبي صلی اللّٰه علیہ وسلم)فسطاط یسمیٰ الکن،ومحجن قدر ذراع أو أطول،یمشي بہ،ویرکب بہ،ویعلقہ بین یدیہ علیٰ بعیرہ،ومخصرۃ،تسمیٰ العرجون،وقضیب من الشوحط،یسمیٰ الممشوق،قیل:وھو الذي تداولہ الخلفاء‘‘[1] انتھیٰ۔واللّٰه تعالیٰ أعلم [نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خیمہ تھا جس کا نام ’’کِن‘‘ تھا،آپ کا ایک خمدار ڈنڈا تھا جو ایک ہاتھ یا اس سے کچھ زائد تھا،آپ وہ ہاتھ میں لے کر چلتے تھے،سواری پر ساتھ رکھتے،اپنے اونٹ پر ساتھ رکھ لیتے،نیز ٹیک لگانے کے لیے لاٹھی تھی جس کا نام ’’عُرجون‘‘ تھا اور ایک اور چھڑی تھی،جسے ممشوق کہتے ہیں،یہی وہ چھڑی ہے،جو خلفا کے ہاتھ لگی] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] وبائے طاعون کی وجہ سے کون سا خروج منع ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ طاعون وغیرہ امراض کی وجہ سے جو خروج منع ہے،وہ کونسا خروج ہے؟ کیا مطلق منع ہے یا دوسرے گاؤں میں جا رہنا منع ہے؟ نیز اپنے گاؤں کے سرحد کے کنوؤں یا کھیتوں پر چھپر وغیرہ ڈال کر تبدیلِ ہوا کے لیے جا رہنا منع ہے یا جائز ہے؟ جواب:جو خروج فراراً من الطاعون منع ہے،وہ مطلقاً منع ہے۔بنا بریں طاعون سے بھاگ کر نہ دوسرے گاؤں میں جانا جائز ہے اور نہ اپنے گاؤں کی سرحد کے کنوؤں یا کھیتوں پر چھپر وغیرہ ڈال کر جا رہنا درست ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل میں ہے: عن عائشۃ تقول:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( فناء أمتي بالطعن والطاعون )) فقلت:یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ھذا الطعن قد عرفناہ فما الطاعون؟ قال:(( غدۃ کغدۃ الإبل،المقیم فیھا کالشھید،والفار منھا کالفار من الزحف )) [3] [یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری امت کا فنا ہونا طعن اور طاعون سے ہے۔پس میں نے کہا:یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے اس طعن کو پہچانا،پس طاعون کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:گلٹی ہے،جیسے اونٹ کو گلٹی ہوتی ہے۔طاعون میں ٹھہرنے والا مثل شہید کے ہے اور اس سے بھاگنے والا مثل اس شخص کے ہے جو لڑائی سے بھاگا ہو] یہ حدیث قابلِ احتجاج ہے۔علامہ زرقانی رحمہ اللہ شرح مواہب (۵/ ۴۵۲) میں لکھتے ہیں: [1] زاد المعاد (۱/ ۱۲۶) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۳۶۳) [3] مسند أحمد (۶/ ۲۵۵)