کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 569
’’عن صھیب الخیر قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:إن أحسن ما اختضبتم بہ لھذا السواد،أرغب لنسائکم فیکم،وأھیب لکم في صدور عدوکم‘‘[1] یعنی صہیب خیر سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمھارے تمام خضابوں میں سیاہ خضاب زیادہ اچھا ہے،اس سے تمھاری عورتوں کو تمھاری طرف رغبت زیادہ ہوتی ہے اور دشمنوں کے دلوں میں تمھاری ہیبت زیادہ ہوتی ہے تو جواب اس کا یہ ہے کہ ابن ماجہ کی یہ حدیث ضعیف ہے،اس کی سند میں دو راوی ضعیف ہیں،ایک دفاع بن دغفل اور دوسرا عبد الحمید بن صیفی۔دیکھو:تقریب التہذیب۔[2] واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المباکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[3] عصا دستی کی کیفیت: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ عصا چوبی دستی جو اکثر عالموں کے پاس ہوتا ہے،اس کا پھل آہنی کس قدر طول میں ہونا چاہیے اور ایک عالم کے واسطے کتنے عصا رکھنے کا حکم ہے؟ از روئے احادیثِ معتبرہ و مستندہ بیان فرمائیں۔ جواب:واضح ہو کہ عصا میں جو پھل آہنی لگاتے ہیں،اس کا بیان کہیں حدیث شریف میں نہیں آیا کہ کس قدر لانبا لگانا چاہیے اور نہ کہیں حدیث میں یہ آیا ہے کہ عالم کو اس قدر عصا رکھنا چاہیے۔نجاشی بادشاہِ حبشہ نے ایک لکڑی کہ جس کو عنزہ کہتے تھے،رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں دی تھی،اس میں لوہے کا پھل لگا ہوا تھا اور وہ لکڑی نیزے سے چھوٹی تھی،مگر اس کے پھل کا کوئی حال مذکور نہیں ہے کہ کس قدر طول میں تھا،واللّٰه أعلم بالصواب۔ حررہ:السید عبد الحفیظ،عفي عنہ۔ سید محمد نذیر حسین هو الموافق عصا رکھنا ہر ایک شخص کے لیے مستحب و مسنون ہے،اس میں عالم کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔چھڑی اور عصا ساتھ رکھنے میں بہت سے فائدے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے جب موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا:{وَ مَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یٰمُوْسٰی} [طٰہٰ:۱۷] یعنی اے موسیٰ تمھارے ہاتھ میں یہ کیا چیز ہے؟ تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا:{ھِیَ عَصَایَ اَتَوَکَّؤُا عَلَیْھَا وَ اَھُشُّ بِھَا عَلٰی غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْھَا مَاٰرِبُ اُخْرٰی} [طٰہٰ:۱۸] یعنی یہ میرا عصا ہے،اس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکری کے لیے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اوربہت سے فائدے ہیں۔ایک شخص کے لیے ایک عصا کافی ہے اور اگر ایک سے زائد بھی ہوں تو کچھ مضائقہ نہیں ہے۔زاد المعاد (۱/ ۳۴) میں ہے: [1] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۳۶۲۵) [2] تقریب التھذیب (۱۸۲۷،۳۷۶۰) [3] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۳۶۹)