کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 568
اس حدیث سے بھی سیاہ خضاب کا نادرست اور ممنوع ہونا بخوبی ظاہر ہے۔ طبرانی اور ابن ابی عاصم نے ابو الدرداء سے مرفوعاً روایت کیا ہے: (( من خضب بالسواد،سود اللّٰه وجھہ بالسواد یوم القیامۃ )) [1] یعنی جو شخص سیاہ خضاب کرے گا،اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا منہ سیاہی سے کالا کرے گا۔یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے،مگر اوپر کی حدیث سے اس کی تقویت ہوتی ہے۔طبرانی اور ابن ابی عاصم کی اس حدیث سے بھی سیاہ خضاب کا نا درست اور ممنوع ہونا صاف ظاہر ہے۔فتح الباری (پارہ:۱۳/ ۲۸۵) میں ہے: ’’ثم إن المأذون فیہ (أي في صبغ شیب اللحیۃ والرأس) مقید بغیر السواد لما أخرجہ مسلم من حدیث جابر أنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:(( غیروہ،وجنبوہ السواد )) ولأبي داود،و صححہ ابن حبان من حدیث ابن عباس مرفوعاً:(( یکون قوم في آخر الزمان یخضبون کحواصل الحمام لا یجدون ریح الجنۃ )) وإسنادہ قوي إلا أنہ اختلف في رفعہ ووقفہ،وعلیٰ تقدیر ترجیح وقفہ فمثلہ لا یقال بالرأي،فحکمہ الرفع،ولھذا اختار النووي أن الصبغ بالسواد یکرہ کراھیۃ تحریم‘‘[2] انتھیٰ [سر اور ڈاڑھی کے بال رنگنے کی اجازت مقید ہے کہ سیاہ رنگ نہ کیا جائے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو قحافہ کے متعلق فرمایا تھا:اس کے بالوں کا رنگ بدل دو اور سیاہ رنگ سے بچو۔ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مرفوعاً روایت کیا ہے:’’آخر زمانے میں ایک قوم ہو گی،وہ اس طرح کے باطل رنگ کریں گے،جیسے کبوتر کی پوٹ۔یہ لوگ جنت کی خوشبو نہ پائیں گے۔اس کی سند قوی ہے۔یہ حدیث حکماً مرفوع ہے۔امام نووی نے کہا ہے:سیاہ رنگ کرنا مکروہِ تحریمی ہے] نیز فتح الباری (پارہ:۲۴/ ۴۹۹) میں ہے: ’’وقد أخرج الطبراني وابن أبي عاصم من حدیث أبي الدرداء رفعہ:من خضب بالسواد سود اللّٰه وجھہ یوم القیامۃ،وسندہ لین‘‘[3] انتھیٰ [ابو الدرداء نے مرفوعاً کہا:جو بالوں پر کالا خضاب کرے،خدا اس کا چہرہ قیامت کے روز سیاہ کریں گے] اگر کوئی کہے کہ سنن ابن ماجہ میں ایک حدیث ہے،جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ سیاہ خضاب کرنا درست ہے اور وہ حدیث یہ ہے: [1] فتح الباري (۱۰/ ۲۹۲) بعد ازاں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند کمزور ہے۔ [2] فتح الباري (۶/ ۴۹۹) [3] فتح الباري (۱۰/ ۲۹۲)