کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 563
مسواک لا دو،آپ نے مونچھوں پر مسواک رکھ کر ان کو کاٹ دیا] 4۔نیز سنن ترمذی کی یہ حدیث جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بایں لفظ مروی ہے: ’’کان النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم یقص شاربہ‘‘[1] [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مونچھیں کٹوایا کرتے تھے] الحاصل لب کے بال کے ازالے کے بارے میں حدیثیں مختلف آئی ہیں۔بعض احادیث سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ اہلِ علم کا مذہب ثابت ہوتا ہے اور بعض سے شافعیہ و امام مالک کے مذہب کا ثبوت ہوتا ہے۔ علامہ طبری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’احادیث سے دونوں باتیں ثابت ہوتی ہیں اور ان احادیث میں کچھ تعارض نہیں ہے،اس واسطے کہ لفظِ قص دلالت کرتا ہے اخذِ بعض پر اور لفظِ احفا دلالت کرتا ہے اخذِ کل پر اور یہ دونوں امر ثابت ہیں،بس جو چاہے اختیار کرے۔‘‘[2] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں علامہ طبری رحمہ اللہ کے اس قول کو نقل کر کے لکھتے ہیں: ’’ویرجح قول الطبري ثبوت الأمرین معا في الأحادیث المرفوعۃ‘‘[3] انتھیٰ یعنی طبری کے قول کو اس وجہ سے ترجیح ہوتی ہے کہ احادیثِ مرفوعہ سے دونوں امر ثابت ہیں۔واللّٰه تعالیٰ أعلم شعر ہائے خدین کو حلق و نتف کرانا اس وجہ سے جائز نہیں ہے کہ خدین پر جو بال ہوتے ہیں،وہ ڈاڑھی میں داخل ہیں اور ڈاڑھی کا حلق ونتف کرانا جائز نہیں ہے۔حافظ ابن حجر لفظ ’’وفروا اللحیٰ‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں: ’’اللحیٰ۔بکسر اللام،وحکي ضمھا،وبالقصر والمد۔جمع لحیۃ۔بکسر اللام۔فقط،وھي اسم لما نبت علیٰ الخدین والذقن‘‘[4] انتھی واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [لحیہ ان بالوں کا نام ہے،جو رخساروں اور ٹھوڑی پر پیدا ہوتے ہیں ] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[5] سید محمد نذیر حسین سر کے بالوں کو مونڈھنا یا کاٹنا درست ہے: سوال:ملک بنگالہ کے بعض بعض اضلاع میں ایسے لوگ ہیں کہ جن کو تمام دن اپنے اپنے کھیتوں میں رہنے کا اتفاق [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۷۶۰) یہ حدیث ضعیف ہے،کیوں کہ سماک کی روایت عکرمہ سے ضعیف ہے۔دیکھیں:تھذیب التھذیب (۴/ ۲۰۴) [2] فتح الباري (۱۰/ ۳۴۷) [3] مصدر سابق۔ [4] فتح الباري (۱۰/ ۳۵۰) [5] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۳۶۱)