کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 562
منڈوانے کی حدیث محفوظ ہے،جیسے علا کی حدیث ہے،جسے مسلم نے روایت کیا ہے۔اس سے لفظ ’’جزوا الشوارب‘‘ کے ہیں اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ’’احفو الشوارب‘‘ کے ہیں۔ایک روایت میں ’’أنہکوا الشوارب‘‘ ہے۔ان تمام الفاظ کا مدعی یہ ہے کہ مونچھوں کو اچھی طرح کاٹا جائے،جز کا معنی ہے کہ بھیڑ،بکری کے بال اتنے کاٹے جائیں کہ چمڑا صاف نظر آنے لگے] انھیں روایات کی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب اور بہت سے علما کے نزدیک جڑ سے بالکلیہ ترشوانا افضل ہے۔امام احمد کے نزدیک بھی یہی افضل ہے اور شافعیہ کے نزدیک مختار یہ ہے کہ لب کے بال جڑ سے بالکل نہ تراشے جائیں،بلکہ اس قدر تراشے جائیں کہ لب کا کنارہ ظاہر ہو جائے۔اسی طرح امام مالک نے بھی موطا میں فرمایا۔وعبارتہ ھکذا:’’یؤخذ من الشارب حتی یبدو طرف الشفۃ‘‘[1] یعنی لب کے بال یہاں تک لیے جائیں کہ لب کا کنارہ ظاہر ہوجائے۔ ان لوگوں کی دلیل صحیحین کی یہ حدیث ہے: ’’عن أبي ھریرۃ قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:الفطرۃ خمس:الختان والاستحداد۔۔۔وقص الشارب‘‘[2] الحدیث۔ [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پانچ چیزیں انسانی فطرت ہیں:ختنہ کرنا،استرے کا استعمال اور لبوں کا کٹانا۔۔۔] 2۔نیز سنن ابی داود کی یہ حدیث ہے جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بایں لفظ مروی ہے: ’’ضفتُ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم۔۔۔وکان شاربي وفیٰ فقصہ لي علیٰ سواک‘‘[3] [میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک اوپر رکھ کر ان کو کاٹ دیا] 3۔نیز مسند بزار کی یہ حدیث جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بایں لفظ مروی ہے: ’’أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أبصر رجلا وشاربہ طویل فقال:ائتوني بمقص وسواک۔فجعل السواک علی طرفہ ثم أخذ ما جاوز‘‘[4] [نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا،اس کی مونچھیں بڑی لمبی تھیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے قینچی اور [1] موطأ الإمام مالک (۲/ ۹۲۲) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۵۵۰) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۵۷) [3] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۱۸۸) [4] کشف الأستار عن زوائد مسند البزار للھیثمي (۳/ ۳۷۰) امام ہیثمی فرماتے ہیں:’’رواہ البزار،وفیہ عبد الرحمن بن مسھر قاضي جبل،وھو کذاب‘‘ (مجمع الزوائد:۵/ ۳۰۴)