کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 561
ڈاڑھی کے طول و عرض سے کچھ لینے کو مکروہ سمجھتی ہے اور ایک قوم نے یہ کہا ہے کہ جب ڈاڑھی ایک مشت سے بڑھ جائے تو زائد لے لینا چاہیے،پھر طبری نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایسا کیا ہے اور عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرد کے ساتھ ایسا کیا ہے اور ابوہریرہ نے بھی ایسا کیا ہے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین کیا مونچھوں اور رخساروں کے بال مونڈھنا جائز ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ شاربین کو حلق کرانا یا اکھڑوانا وھٰکذا شعر ہائے خدین کو حلق و نتف کرانا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب:شاربین کو حلق کرانا اور جڑ سے بالکلیہ ترشوانا جائز ہے اور شعر ہائے خدین کو حلق ونتف کرانا جائز نہیں۔شاربین کا حلق کرانا یا جڑ سے بالکلیہ ترشوانا اس وجہ سے جائز ہے کہ احادیث سے ثابت ہے۔صحیحین میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ’’قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:خالفوا المشرکین:وفروا اللحیٰ وأحفوا الشوارب۔وفي روایۃ:أنھکوا الشوارب وأعفوا اللحیٰ‘‘[2] کذا في المشکاۃ۔ یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشرکین کی مخالفت کرو،ڈاڑھیوں کو بڑھاؤ اور لب کے بالوں کو جڑ سے تراشو۔نسائی کی روایت میں لفظِ حلق واقع ہوا ہے،جس سے لب کے بالوں کو منڈانا ثابت ہوتا ہے۔ قال الحافظ ابن حجر في الفتح:’’ورد الخبر بلفظ الحلق،وھي روایۃ النسائي عن محمد بن عبد اللّٰه بن یزید عن سفیان بن عیینۃ بسند ھذا الباب۔۔۔إلیٰ أن قال:نعم وقع الأمر بما یشعر بأن روایۃ الحلق محفوظ،کحدیث العلاء عند مسلم بلفظ:جزوا الشوارب،وحدیث ابن عمر بلفظ:أحفوا الشوارب،وبلفظ:أنھکوا الشوارب۔فکل ھذہ الألفاظ تدل علیٰ أن المطلوب المبالغۃ في الإزالۃ،لأن الجز قص الشعر والصوف إلیٰ أن یبلغ الجلد،والإحفاء:الاستقصاء۔قال أبو عبید الھروي:معناہ:ألزقوا الجز بالبشرۃ،والنھک المبالغۃ في الإزالۃ‘‘[3] انتھیٰ ملخصاً [حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں کہا ہے کہ مونچھیں منڈوانے کی حدیث محفوظ ہے۔نسائی نے کہا کہ [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۳۵۹) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۵۵۳،۵۵۵۴) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۵۹) [3] فتح الباري (۱۰/ ۳۴۷)