کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 56
کی نوبت آئی۔جب مبارک پور سے میری روانگی کا وقت آیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ اعظم گڑھ تک ٹرین سے جاؤں گا تو مولانا نے فرمایا کہ ٹرین سے نہ جاؤ،ہماری جان پہچان کے دو آدمی بیل گاڑی لے کر اعظم گڑھ جانے والے ہیں،ان کے ساتھ چلے جانا۔یہ تمھارے لیے زیادہ آسان ہو گا۔ادھر ان دونوں حضرات نے طے کیا تھا کہ آدھی رات کو نکلیں گے۔ ’’چنانچہ عشا کی نماز کے بعد میں نے مولانا کو الوداع کہنا چاہا تو فرمایا:روانگی کے وقت میں رخصت کرنے آوں گا۔میں نے کہا:آپ کو زحمت ہو گی،نیند میں خلل پڑے گا۔فرمایا:کوئی بات نہیں۔چنانچہ جب روانگی کا وقت ہوا اور میں اپنابیگ اٹھا کر اپنے مسجد والے حجرے سے باہر نکلا تو مولانا کو موجود پایا،پھر ہم باتیں کرتے ہوئے وہاں پہنچے،جہاں وہ دونوں حضرات گاڑی لے کر ہمارا انتظار کر رہے تھے۔رخصت کے وقت جب انھوں نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا:’’أستودع اللّٰہ دینک وأمانتک وخواتیم عملک،زوّدک اللّٰہ التقویٰ و یسر لک الخیر أینما توجھت‘‘ تو اس کے ساتھ ہی انھوں نے چپکے سے میرے ہاتھ میں کوئی کاغذ تھما دیا۔میں نے محسوس کیا کہ نوٹ کی شکل میں کچھ رقم ہے تو میں نے واپس کرنا چاہا اور کہا:’’جزاک اللّٰہ‘‘ آپ نے لطف و کرم کی انتہا کر دی،اس کی کیاضرورت ہے؟ اس پر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا،ان دونوں حضرات سے کچھ دور ہوئے توزور زور سے رونے لگے۔ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور کہے جا رہے تھے:لے لو اسے،لے لو اسے۔چنانچہ میں نے وہ روپیا لے لیا۔ ان کا رونا دیکھ کر میرے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی اور میں بہت شرمندہ ہوا کہ میرا روپیا لوٹانا ہی ان کے شدید گریہ کا سبب بنا۔چنانچہ میں نے ان سے معافی چاہی اور انھوں نے معاف کر دیا۔سسکیاں لیتے ہوئے آنکھوں سے آنسو پونچھے اور ذرا سنبھلے تو میرا ہاتھ پکڑا اور گاڑی کی طرف بڑھے۔پھر میں نے ان کو الوداع کیا اور گاڑی پر سوار ہو گیا۔یہ تمام خیالات اور انفعالات میرے ذہن میں گھومتے رہے،یہاں تک کہ فجر کا وقت ہو گیا تو ہم لوگ نماز کے لیے رکے۔میں نے ان دونوں حضرات کی امامت کی۔جب میں نے قراء ت کی شروع کی تو اس واقعے تصور سے رو پڑا۔‘‘[1] اختلاجِ قلب اور وفات: آنکھوں کے علاج کے بعد مولانا مبارک پوری رحمہ اللہ اپنے وطن مبارک پور تشریف لے گئے تو اختلاجِ قلب کے دورے پڑنے لگے۔علاج معالجہ ہوتا رہا،لیکن مرض میں افاقہ نہ ہوا،بلکہ روز بروز اضافہ ہوتا رہا۔شعبان ۱۳۵۳ھ کا [1] دبستانِ حدیث،(ص:۲۰۲،) بحوالہ مولانا عبد الرحمن محدث مبارک پوری،(ص:۲۲۶ تا ۲۲۸)