کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 559
ہیں اور جو ان کو نصیحت کی جاتی ہے کہ اس میں حقارت سنتِ نبویہ کی لازم آتی ہے تو اور زیادہ مذمت بڑی ڈاڑھی والوں کی کرتے ہیں،ایسے لوگوں سے ترکِ سلام کلام کرنا ضرور ہے یا نہیں ؟ جواب:{اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ} ڈاڑھی کا دراز رکھنا بقدر ایک مشت کے واجب ہے،بدلیلِ حدیثِ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے،جیسا کہ ہم آگے ذکر کریں گے،اور ڈاڑھی کا منڈوانا،ایک مشت سے کم رکھنا یا خشخاشی بنانا حرام ہے اور موجبِ وعید ہے،چونکہ اس مسئلے میں عوام کو تردد ہے اور تفہیم علمائے صادق الاقوال کو باطل اور بے اصل جانتے ہیں،لہٰذا ہم کو مدلل بنصوصِ شارع علیہ السلام کے لکھنے کی ضرورت ہوئی: قد جاء في الحدیث في صحیح مسلم عن أبي ھریرۃ رضی اللّٰه عنہ قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( جزوا الشوارب وأرخوا اللحیٰ،خالفوا المجوس )) [1] [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مونچھیں کٹواؤ اور ڈاڑھی کو لٹکاؤ اور مجوسیوں کی مخالفت کرو] وفي الصحیحین عن ابن عمر عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( خالفوا المشرکین و وفروا اللحیٰ وأحفوا الشوارب )) [2] وروی الترمذي من حدیث زید بن أرقم قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( من لم یأخذ من شاربہ فلیس منا )) وقال:حدیث صحیح‘‘[3] [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مشرکوں کی مخالفت کرو،ڈاڑھی بڑھاؤ،مونچھیں کٹواؤ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو اپنی مونچھیں نہ کٹوائے،وہ ہم میں سے نہیں ہے] پس منڈوانا اور کترانا ڈاڑھی کا ایک مشت سے کم اور بڑھانا مونچھوں کا حرام ہے اور بڑھانا ڈاڑھی کا اور پست کرنا مونچھوں کا واجب ہے،کیونکہ شارع علیہ السلام نے صیغہ امر کو جا بجا اختیار فرمایا ہے اور صیغہ امر کا خبر واحد میں وجوب کو چاہتا ہے،لہٰذا واجب ہے بڑھانا ڈاڑھی کا اور پست کرنا مونچھوں کا۔ان نصوص کے اتباع سے اہلِ اصولِ فقہ نے کتبِ اصول میں تعریف وجوب کی لکھی ہے:’’الواجب ما ثبت بدلیل ظني‘‘ [واجب وہ ہے،جو ظنی دلیل سے ثابت ہو] پس یہ احادیث خبرِ آحاد دلیل ظنی مثبتِ وجوب ہیں اور ترکِ واجب حرام و موجبِ وعید ہے۔نیز عاملِ سنت کو من حیث السنۃ بے ایمان کہنے والے خود بے ایمان ہیں۔ایسے لوگوں سے ترکِ سلام و کلام لازم ہے،جب تک کہ وہ توبہ نصوح اس عملِ بد سے نہ کریں۔واللّٰه أعلم بالصواب۔فقیر محمد حسین الجواب صحیح۔حبیب احمد الجواب صحیح۔فتح محمد،مدرس فتح پوری۔ الجواب صحیح۔بندہ ضیاء الحق عفا اﷲ عنہ،مدرس مدرسہ امینیہ،دہلی۔ [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۶۰) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۵۵۳) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۵۹) [3] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۷۶۱)