کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 558
جو حکم سونے کے حلقے وغیرہ پہننے کی ممانعت کا ہے،وہ پہلے تھا،پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا اور عورتوں کے لیے سونے کا زیور مباح کر دیا گیا۔امام خطابی معالم السنن میں لکھتے ہیں: ’’ھذا الحدیث یتأول علیٰ وجھین:أحدھما أنہ إنما قال ذلک في الزمان الأول،ثم نسخ،وأبیح للنساء التحلي بالذھب،والوجہ الآخر أن ھذا الوعید إنما جاء في من لا یؤدي زکاۃ الذھب دون من أداھا‘‘[1] انتھیٰ [امام خطابی اور حافظ منذری نے کہا:اس حدیث کی دو طرح پر تاویل کی گئی ہے۔ایک یہ کہ پہلے سونے کا استعمال عورتوں کے لیے ممنوع تھا،بعد میں اجازت ہوگئی اور دوسری تاویل یہ ہے کہ یہ وعید اس آدمی کے حق میں ہے،جو اس کی زکات ادا نہ کرے،جو ادا کرے،وہ اس سے مستثنیٰ ہے] حافظ منذری ’’تلخیص السنن‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’حملہ بعضھم علیٰ أنہ قال ذلک في الزمان الأول،ثم نسخ،وأبیح للنساء التحلي بالذھب لقولہ صلی اللّٰه علیہ وسلم:ھذان حرام علیٰ ذکور أمتي،حل لأناثھا،وقیل ھذا الوعید في من لا یؤدي زکاۃ الذھب،وأما من أداھا فلا‘‘[2] انتھی،واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [بعض نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اس سے منع کیا تھا،پھر یہ ممانعت منسوخ ہو گئی اور عورتوں کے لیے سونے کے زیورات پہننا مباح ہو گیا،کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ دونوں (سونا اور ریشم) میری امت کے مردوں پر حرام ہیں اور ان کی عورتوں کے لیے حلال ہیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ وعید اس کے حق میں ہے جو اس کی زکات نہ ادا کرتا ہو،رہا وہ جو اس کی زکات ادا کرے تو وہ اس وعید کی زد میں نہیں ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[3] ڈاڑھی کی شرعی حیثیت: سوال:ڈاڑھی کا بقدر ایک قبضہ کے رکھنا واجب ہے یا مستحب ہے یا مباح اور قبضہ سے کم رکھنا،یعنی خشخاشی مثل پائے مورچہ رکھنا یا منڈوانا حرام ہے یا نہیں اور دراز رکھنا مونچھوں کا درست ہے یا نہیں ؟ مدلل حدیثِ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے جواب دو اور جو لوگ اس عمل کو کچھ گناہ نہیں جانتے اور اس پر مصر ہیں،بلکہ جن کی ڈاڑھی مونچھیں موافق سنت کے ہیں،ان کو حقیر اور ذلیل جانتے ہیں اور یہاں تک کہتے ہیں کہ لمبی ڈاڑھی والے بے ایمان ہوتے [1] معالم السنن (۳/ ۶۳) [2] مختصر سنن أبي داود للمنذري (۶/ ۱۲۶۔۱۲۷) [3] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۳۵۴)