کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 557
پہنانے کا بدلہ یہ ہے کہ اس کو آگ کا حلقہ پہنایا جائے] تو جواب اس کا یہ ہے کہ یہ حدیث اگر منسوخ نہیں ہے بلکہ معمول بہ ہے تو بے شک اس سے سونے کے حلقے،یعنی سونے کی نتھ کی ممانعت و حرمت ثابت ہوتی ہے،مگر واضح رہے کہ اسی حدیث سے چاندی کی نتھ کا جواز نکلتا ہے،نیز واضح رہے کہ علما نے اس حدیث کو منسوخ بتایا ہے،پس اس تقدیر سے اس حدیث سے سونے کی نتھ کا جواز ثابت ہوتا ہے۔پہلی بات کا ثبوت یہ ہے کہ اس حدیث کا آخری جملہ یہ ہے:(( ولکن علیکم بالفضۃ فالعبوا بھا )) یعنی تم لوگ لازم پکڑو چاندی کو،پس اس کے ساتھ کھیل کرو،مطلب یہ ہے کہ سونے کا حلقہ اور سونے کا طوق اور سونے کا کنگن وغیرہ اپنی عورتوں کے لیے نہ بناؤ،کیونکہ سونے کے یہ سب زیورات حرام ہیں،ہاں چاندی کی نتھ اور چاندی کا طوق اور چاندی کا کنگن اور ان کے سوا چاندی کا جو زیور ہو بناؤ،کیونکہ چاندی تمھارے لیے حلال ہے،سو جو زیور اور جس قسم کا زیور بنانا چاہو،چاندی ہی کا بناؤ۔مرقاۃ شرح مشکات ہے: ’’قال ابن الملک:اللعب بالشيء التصرف فیہ کیف شاء أي اجعلوا الفضۃ في أي نوع شئتم من الأنواع للنساء دون الرجال إلا التختم وتحلیۃ السیف وغیرہ من آلات الحرب‘‘[1] انتھیٰ [ابن ملک نے کہا:کسی چیز کے ساتھ کھیلنا اس میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنا ہے،یعنی چاندی کو عورتوں کے زیور میں جس طرح چاہو استعمال کرو،مرد اس سے صرف انگوٹھی یا تلوار کا دستہ بنوا سکتے ہیں ] سنن ابو داود کی اس حدیث کے پورے الفاظ یہ ہیں: ’’عن أبي ھریرۃ أن رسول اللّٰه قال:من أحب أن یحلق حبیبہ حلقۃ من نار فلیحلقہ حلقۃ من ذھب،ومن أحب أن یطوق حبیبہ طوقا من نار،فلیطوقہ طوقا من ذھب،ومن أحب أن یسور حبیبہ سوارا من نار،فلیسورہ سوارا من ذھب،ولکن علیکم بالفضۃ فالعبوا بھا‘‘[2] (أبو داود مع عون المعبود:۴/ ۱۴۹) [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کو پسند ہو کہ اپنے پیارے کو آگ کا حلقہ پہنائے،وہ اسے سونے کا حلقہ پہنا دے،جو اپنے دوست کے گلے میں آگ کا طوق ڈالنا چاہتا ہو،وہ اس کے گلے میں سونے کا طوق ڈال دے،جو آگ کے کنگن پہنانا چاہتا ہو،وہ سونے کے کنگن پہنا دے۔البتہ تم چاندی کو جتنا چاہو استعمال کیا کرو] دوسری بات کا ثبوت یہ ہے کہ امام خطابی اور حافظ منذری وغیرہما نے صاف تصریح کی ہے کہ اس حدیث میں [1] مرقاۃ المفاتیح (۷/ ۲۸۰۶) [2] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۲۳۶)