کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 553
من سائر الاستعمالات،قیل:لا تحرم،لأن النص لم یرد إلا في الأکل والشرب،وقیل:یحرم سائر الاستعمالات إجماعا،ونازع في الأخیر بعض المتأخرین،وقال:النص ورد في الأکل والشرب لا غیر،وإلحاق سائر الاستعمالات بہما قیاسا،لا یتم فیہ شرائط القیاس،والحق ما ذھب إلیہ القائل بعدم تحریم غیر الأکل والشرب فیہما،إذ ھو الثابت بالنص،ودعوی الإجماع غیر صحیحۃ،وھذا من شؤم تبدیل اللفظ النبوي بغیرہ،فإنہ ورد بتحریم الأکل والشرب فقط فعدلوا عن عبارتہ إلیٰ الاستعمال،وھجروا العبارۃ النبویۃ،وجاء وا بلفظ عام من تلقاء أنفسھم،ولھا نظائر في عبارتھم‘‘[1] انتھیٰ۔واللّٰه أعلم، [کھانے پینے کے متعلق تو کوئی اختلاف نہیں ہے،ان کے سوا دوسری چیزوں میں البتہ اختلاف ہے،بعض اس کو حرام نہیں کہتے،کیوں کہ نص صرف کھانے اور پینے کے متعلق ہے اور بعض ہر طرح کے استعمال کو حرام کہتے ہیں اور اس پر اجماع کے مدعی ہیں،لیکن بعض متاخرین نے دوسرے استعمالات میں اختلاف کیا ہے اور کہا کہ نص صرف کھانے پینے کے متعلق ہے اور کسی چیز کے متعلق نہیں ہے اور دوسری چیزوں کو قیاس سے ان کے ساتھ ملحق کرنا صحیح نہیں،کیوں کہ اس میں قیاس کے شرائط نہیں پائے جاتے۔صحیح بات یہ ہے کہ کھانے پینے کے سوا اور کوئی چیز حرام نہیں ہے،کیوں کہ وہی نص سے ثابت ہے اور اجماع کا دعویٰ بالکل باطل ہے اور یہ بھی تو ایک بُری بات ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخصوص الفاظ کو اپنی طرف سے عام کر کے خواہ مخواہ لوگوں پر از خود پابندی لگا دی جائے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] کیا عورت کے لیے ناک اور کان چھدوانا جائز ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ عورت کو ناک چھدانا اور کیل یا نتھ پہننا جائز ہے یا نہیں اور کس دلیل سے جائز ہے یا ناجائز ہے؟ جواب:عورتوں کو کان چھدانا اور اس میں بالی وغیرہ زیور پہننا جائز ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ نے باب یوں منعقد کیا ہے:’’باب القرط للنساء‘‘ پھر اس باب میں ابن عباس کی یہ حدیث ذکر کی ہے: ’’قال ابن عباس:أمرھن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم بالصدقۃ،فرأیتھن یھوین إلی آذانھن وحلوقھن‘‘[3] [1] سبل السلام (۱/ ۲۹) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۳۵۲) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۹۵۱)