کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 55
لکھی،جس میں شوق صاحب کی تمام کاوشوں کا پتا چل گیا۔‘‘[1] دیوبندی مکتبہ فکر کے ممتاز عالمِ دین مولانا حبیب الرحمن قاسمی (حنفی) لکھتے ہیں: ’’مولانا عبدالرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل سے بھرپور نوازا۔دقتِ نظر،حدتِ ذہن،ذکاوتِ طبع اور کثرتِ مطالعہ کے اوصاف و کمالات نے آپ کو جامع شخصیت بنا دیا تھا۔خاص طور پر علمِ حدیث میں تبحر و امامت کا درجہ رکھتے تھے۔روایت کے ساتھ ساتھ درایت کے مالک اور جملہ علومِ آلیہ و عالیہ میں یگانہ روز گار تھے۔قوتِ حافظہ بھی خداداد تھی۔بینائی سے محروم ہو جانے کے بعد درسی کتابوں کی عبارتیں زبانی پڑھا کرتے تھے اور ہر قسم کے فتاویٰ لکھوایا کرتے تھے۔مولانا اپنی زندگی میں مجتہدانہ شان رکھتے تھے۔فقہا خاص طور سے احناف کے بارے میں نہایت شدید رویہ رکھتے تھے اور بڑی شد و مد سے ان کا رد کرتے تھے۔مگر یہ معاملہ صرف تصانیف کی حد تک محدود تھا،جو سراسر علمی و تحقیقی تھا۔ ’’مولانا براہِ راست عامل بالحدیث تھے۔صفاتِ باری تعالیٰ کے سلسلے میں ’’مَا وَرَدَ بِہِ الْکِتَابُ وَالسُّنَّۃُ‘‘ پر ایمان رکھتے تھے۔مولانا کے تبحر علمی اور علمِ حدیث میں مہارت پر ان کی تصانیف شاہد ہیں۔آپ کی تصنیف ’’تحفۃ الأحوذي‘‘ شرح جامع ترمذی کو اللہ تعالیٰ نے عالمِ اسلام اور عرب ممالک میں جو شہرت و مقبولیت دی ہے،شاید متاخرین علماے ہند میں سے کسی کی کتاب کو حاصل نہیں ہوئی۔اسی طرح ’’أبکار المنن‘‘ اور ’’تحقیق الکلام‘‘ آپ کے علمی تبحر کے شاہکار ہیں۔‘‘[2] علامہ تقی الدین الہلالی المراکشی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۸۷ء) حضرت محدث مبارک پوری رحمہ اللہ کے تلمیذِ رشید تھے۔آپ نے مبارک پور میں حدیث اور دوسرے علوم میں ان سے استفادہ کیا تھا۔مولانا مبارک پوری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’مولانا مبارک پوری طبابت کرتے تھے اور صرف دو تین گھنٹے دکان میں وقت دیتے تھے۔بقیہ اوقات تعلیم و تعلم اور تالیفِ کتب میں گزارتے تھے۔‘‘ (یہ واقعہ علامہ ہلالی نے اپنی کتاب ’’الدعوۃ إلی اللّٰہ في أقطار مختلفۃ‘‘ نامی کتاب میں بھی لکھا ہے)۔[3] دوسرا واقعہ علامہ ہلالی نے جو بیان کیا ہے،وہ درج ذیل ہے۔علامہ ہلالی فرماتے ہیں: ’’مبارک پور میں مولانا نے استفادے کی غرض سے میرے قیام کے دوران میں شدید اصرار کے ساتھ مجھے اپنے ہاں مہمان کی حیثیت سے رکھا۔چنانچہ مجھے کسی ہوٹل میں جانا پڑا اور نہ کھانا کہیں سے خریدنے [1] تراجم علماے حدیث ہند،(ص:۴۰۲) [2] تذکرہ علماے اعظم گڑھ،(ص:۱۴۵،۱۴۶) [3] دبستانِ حدیث،(ص:۱۹۶)