کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 549
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس عضوِ بدن پر باریک کپڑا پہنا ہوا ہے،وہ عضو حکماً شرعاً ننگا ہوتا ہے۔چنانچہ ’’أشعۃ اللمعات ترجمہ مشکات‘‘ میں مرقوم ہے: ’’ازیں حدیث معلوم میشود کہ چوں اندام درجامہ باریک نماید حکم برہنہ دارد‘‘[1] انتہیٰ تنبیہ:جیسا کہ اس پر اعتراض مرسل ہونے کا صحیح ہے،ویسا ہی تائیداً اس کا وارد کرنا بھی صحیح ہے۔ ’’وعن أم سلمۃ أم المؤمنین في حدیث طویل قال قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:رب کاسیۃ في الدنیا عاریۃ یوم القیامۃ،[2] رواہ مالک في موطأہ،والبخاري في صحیحہ في کتاب اللباس۔ حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بہت سی عورتیں پہننے والیں دنیا میں قیامت کے دن ننگیاں ہوں گی۔اس حدیث کو امام مالک نے اپنی کتاب موطا میں ذکر کیا ہے اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں کتاب اللباس کے تحت میں لکھا ہے۔ مذکورہ حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری شرح صحیح البخاری میں ابن بطال کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ومطابقۃ حدیث أم سلمۃ ھذا للترجمۃ من جھۃ أنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم حذر من لباس رقیق من الثیاب الواصفۃ لأجسامھن لئلا یعرین في الآخرۃ‘‘[3] انتھیٰ اس حدیث کی مطابقت باب کے ساتھ اس طرح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا ڈرایا ہے باریک و مہین لباس سے جو مستورات کے بدن کا وصف بیان کرے،تاکہ وہ بسبب حکماً ننگیاں ہونے کے آخرت کو بھی ننگیاں نہ ہوں۔ تنبیہ اول:پہلی حدیث میں قبطیہ کثیفہ آیا ہے،جس کا معنی ہے مصر کی باریک ململوں سے ایک موٹی مصری ململ،کیوں کہ کتبِ لغب و شرح میں لکھا ہے:’’القباطي ثیاب رقاق‘‘ (نیل:ص:۱۵،ج:۲) نیز لکھا ہے: ’’القباطی ھي ما في النھایۃ:ثوب من ثیاب في مصر‘‘ انتھیٰ (عون المعبود،ص:۱۱۰،ج:۴) وفي المصباح:والقبطی ثوب کتان رقیق یعمل بمصر نسبۃ إلی القبط (عون المعبود،ص:۱۰،ج:۴) اس مصباح والی عبارت کے ہم معنی عبارت صراح (ص:۱۰۲۶) میں ہے:’’قبطی منسوب قبطیہ،کتان باریک [1] أشعۃ اللمعات (۳/۵۹۵) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۱۵) موطأ الإمام مالک (۲/۹۱۳) [3] فتح الباري (۱۰/۳۰۳)