کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 548
’’والحدیث ساقہ المصنف للاستدلال بہ علی کراھیۃ لبس المرأۃ ما یحکي بدنھا،وھو أحد التفاسیر کما تقدم،والإخبار بأن من فعل ذلک من أھل النار وأنہ لا یجد ریح الجنۃ مع أن ریحھا یوجد من مسیرۃ خمس مائۃ عام،وعید شدید،یدل علی تحریم ما اشتمل علیہ الحدیث من صفات ھذین الصنفین‘‘ انتھیٰ یعنی مصنف اس حدیث کو اسی استنباط کے لیے لائے ہیں کہ بدنی جھلک کو ظاہر کرنے والا لباس عورت کو مکروہ ہے اور یہ معنی دوسرے معنوں سے ایک معنی ہے۔شارع کا یہ خبر دینا کہ اس کا فاعل دوزخی ہے اور وہ بہشت میں داخل نہ ہو گا اور نہ اس کو بہشت کی خوش بو آئے گی،حالانکہ بہشت کی خوشبو پانچ سو برس کے سفر سے آتی ہے،یہ بڑی سخت وعید ہے،جو دلالت کرتی ہے کہ دونوں صفتیں،جن کا ذکر ہوا،حرام ہیں۔انتھیٰ نیز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمانا:’’لا تلبسوا نساء کم القباطي فإنہ إن لا یشف یصف‘‘[1] ذکرہ في کنز العمال۔یعنی اپنی مستورات کو باریک مہین قباطی مصری کپڑے مت پہنائو،تاکہ بدن ظاہر نہ ہو۔اسی کی تائید کر رہا ہے۔ ’’وعن علقمۃ بن أبي علقمۃ عن أمہ قالت:دخلت حفصۃ بنت عبد الرحمان علیٰ عائشۃ رضي اللّٰه عنها،وعلیھا خمار رقیق فشقتہ عائشۃ،وکستھا خماراً کثیفاً۔[2] رواہ مالک‘‘ (مشکاۃ:ص:۳۷۷،ج:۲) یعنی علقمہ کی ماں فرماتی ہیں کہ مسماۃ حفصہ بنت عبدالرحمان ولد ابو بکر کی بیٹی اپنی پھوپھی حضرت عائشہ ام المومنین کے گھر گئی اور اس کے اوپر باریک مہین کپڑے کا خمار (چنی) تھی۔مائی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس کو پھاڑ ڈالا اور اس کو موٹا پہنا دیا۔ ’’وعن عائشۃ رضي اللّٰه عنها قالت:دخلت أسماء بنت أبي بکر رضی اللّٰه عنہما علیٰ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم وعلیھا ثیاب رقاق فأعرض عنھا،وقال:یا أسماء إن المرأۃ إذا بلغت المحیض لن یصلح أن یری منھا إلا ھذا وھذا،وأشار إلی وجہہ وکفیہ۔رواہ أبو داود‘‘[3] (مشکاۃ:ص:۳۷۷،ج:۲) یعنی اسما دختر ابوبکر صدیق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر گئی اور اس پر باریک کپڑے تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے دوسری جانب منہ موڑ لیا اور بطورِ ناراضگی فرمایا:اے اسما! جس وقت عورت بالغہ ہو جائے،ہر گز نہیں جائز کہ اس سے سوائے منہ اور ہاتھوں کے کوئی اور عضو دیکھا جائے۔ [1] مصنف عبد الرزاق (۵/۱۶۴) کنز الأعمال (۴۲۰۳۱) [2] موطأ الإمام مالک (۲/۹۱۳) [3] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۱۰۴) امام ابو داود یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:’’ھذا مرسل،خالد بن دریک لم یدرک عائشۃ‘‘ نیز اس کی سند میں سعید بن بشیر راوی بھی متکلم فیہ ہے۔