کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 547
لائے گئے تو ان سے ایک قبطی کپڑا مجھے بھی دیا اور فرمایا:اس کے دو ٹوٹے کر کے ایک کا اپنا کرتا بنا لو اور دوسرا اپنی زوجہ کو خمار (چنی) کے لیے دے دو۔جب وہ چلا گیا تو فرمایا:اپنی زوجہ کو حکم کرنا کہ اس کے نیچے موٹا گفدار کپڑا پہن لے،تاکہ یہ قبطی کپڑا اس کے بدن کی رنگت اور جھلک ظاہر نہ کرے۔انتھیٰ پھر محقق شارح علامہ شوکانی متن والی پہلی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: ’’الحدیث یدل علی أنہ یجب علی المرأۃ أن تستر بدنھا بثوب لا یصفہ،وھذا شرط ساتر العورۃ،وإنما أمر بالثوب تحتہ لان القباطي ثیاب رقاق،لا تستر البشرۃ عن رؤیۃ الناظر بل یصفھا‘‘[1] انتھیٰ یہ حدیث بتلا رہی ہے کہ عورت کو واجب ہے کہ اپنا بدن اچھے موٹے کپڑے سے ڈھانکے،جو اس کے بدن کی جھلک کو نہ ظاہر کرے اور یہی شرط پردے کے لیے مرد کو ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نیچے کپڑا پہننا اس لیے ارشاد فرمایا،کیوں کہ قبطی مصری کپڑے اس قدر باریک ہوتے ہیں کہ بدن کی جھلک دیکھنے والے سے نہیں چھپایا کرتے،بلکہ ظاہر کرتے ہیں۔ ان دونوں حدیثوں اور تبویبِ مولف سے ثابت ہوا کہ عورت پر واجب ہے کہ موٹا کپڑا پہنے،جس سے اس کے بدن کی جھلک اور رنگت ظاہر نہ ہو،بلکہ رنگت و جھلک ظاہر کرنے والا کپڑا پہننا ممنوع ہے۔ وعن أبي ھریرۃ رضی اللّٰه عنہ قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:صنفان من أھل النار،لم أرھما،قوم معھم سیاط کأذناب البقر،یضربون بھا الناس،ونساء کاسیات عاریات ممیلات مائلات رؤسھن کأسنمۃ البخت المائلۃ،لا یدخلن الجنۃ ولا یجدن ریحھا،وإنما ریحھا لتوجد من مسیرۃ کذا و کذا‘‘[2] رواہ مسلم،ومشکاۃ (ج:۲،ص:۶۰۶) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دو ٹولے دوزخیوں کے میں نے نہیں دیکھے۔ایک وہ قوم جن کے پاس گائو کی دم کی طرح کے کوڑے ہوں گے،لوگوں کو اس کے ساتھ مارتے پھریں گے اور دوسرے وہ عورتیں جو کپڑے پہنے ہوئے مگر حقیقت میں ننگیاں،مائل ہونے والیاں،مائل کرنے والیاں ان کے سر بختی اونٹ کی ایک طرف جھکی ہوئی کوہان کی طرح ہوں گے،نہیں دیکھیں گی بہشت کو اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کپڑا جو بدن کی جھلک و رنگت کو بیان کرے،وہ مستورات کے لیے پہننا حرام ہے۔اسی لیے ’’من أھل النار‘‘ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’ولا یجدن ریحھا،وفي روایۃ:لا یدخلن الجنۃ‘‘ چنانچہ نیل الاوطار (ص:۱۱۶،ج:۲) میں علامہ شوکانی رحمہ اللہ جیسا محقق محدث لکھتا ہے: [1] نیل الأوطار (۲/۱۱۵) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۱۲۸)