کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 545
فأعرض عنھا،وقال:یا أسماء! إن المرأۃ إذا بلغت المحیض لن یصلح أن یری منھا إلا ھذا وھذا،وأشار إلیٰ وجھہ وکفیہ‘‘[1] (رواہ أبو داود) [ایک دفعہ اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے باریک کپڑے پہن رکھے تھے۔حضور نے ان سے منہ پھیر لیا اور فرمایا:اے اسما! عورت جب جوان ہوجائے تو اس کے بدن میں سے صرف چہرہ یا ہاتھ نظر آنے چاہئیں ] ’’أشعۃ اللمعات‘‘ میں اس حدیث کے تحت میں ہے: ’’ازیں حدیث معلوم می شود کہ چون اندام در جامہ باریک نماید حکم برہنہ دارد‘‘[2] انتھی [اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب باریک لباس سے جسم جھلکتا ہو تو وہ برہنہ کے حکم میں ہے] واللّٰه تعالیٰ أعلم وعلمہ أتم،کتبہ:محمد عبدالرحمن المبارکفوری،عفا اللّٰه عنہ۔[3] سوال:مستورات کے لیے باریک پوشاک پہننی جائز ہے یا نہیں ؟ اگر مستورہ ایسے گھر میں ہے جہاں اس کے خاوند کے بغیر دوسرا کوئی شخص نامحرم نہیں آتا تو وہاں کیا باریک کپڑا پہن سکتی ہے یا نہیں ؟ اگر باریک کپڑا پہننا ناجائز و حرام ہے تو کیا نماز میں ہی صرف حرام ہے یا بطورِ عموم؟ بینوا توجروا! جواب:وھو الموفق للصدق والصواب۔ اﷲ عزوجل کا ہزاراں ہزار شکر ہے جس نے کمالِ شفقت و مہربانی فرما کر اپنی ربوبیتِ کاملہ کو ظاہر کرتے ہوئے ایسے بابرکت و نورانی رسول۔فداہ أبي وأمي صلی اللّٰه علیہ وسلم ملأ الدنیا والآخرۃ۔کو ہماری ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا،جس نے کمال خیر خواہی و نصحِ امت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہر قسم کی بدی،برائی و شر (جو موجب غضبِ الٰہی تھی) سے روک دیا اور اس کے برے انجام سے ڈرایا اور ہر قسم کی نیکی بھلائی و خیر (جو موجبِ رضاے خدا تھی) اس کے کرنے کا حکم صادر فرمایا اور اس کے اچھے انجام اور نتیجے کی خوش خبری دی۔چنانچہ مشکاۃ شریف (ص:۴۵۲) میں ہے: عن ابن مسعود رضی اللّٰه عنہ قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( أیھا الناس لیس شییٔ یقربکم من النار ویباعدکم من الجنۃ إلا قد نھیتکم عنہ )) [4] الحدیث۔رواہ في شرح السنۃ والبیہقي في شعب الإیمان۔ [1] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۱۰۴) امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ھذا مرسل،خالد بن دریک لم یدرک عائشۃ رضي اللّٰه عنها ‘‘ [2] أشعۃ اللمعات (۳/۵۹۵) [3] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۳۴۹) [4] شرح السنۃ (۷/۲۴۲) شعب الإیمان (۷/۲۹۹)