کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 542
یعنی جب کوئی اجنبی اور غیر محرم مرد کسی غیر محرم عورت کے ساتھ تخلیہ میں ہوتا ہے تو ان دونوں کا تیسرا شیطان ہوتا ہے۔اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔ جابر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ’’سألت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم عن نظر الفجاء ۃ فأمرني أن أصرف بصري‘‘[1] رواہ مسلم یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اس نظر کے بارے میں سوال کیا،جو یکایک اور بلا قصد کسی اجنبی عورت پر پڑ جائے تو آپ نے مجھے فرمایا کہ میں اپنی نظر کو پھیر لوں۔اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ غیر محرم عورت کی طرف نظر کرنا اور ان کے پاس تنہائی میں داخل ہونا حرام و ناجائز ہے،لہٰذا جب مجرد نظر کرنا اور ان کے پاس داخل ہونا حرام ٹھہرا تو تم سمجھ سکتے ہو کہ غیر محرم عورتوں کے ساتھ نشست و برخاست کرنا اور ان کے ساتھ کھانا پینا اور ان سے خدمت لینا کس درجہ حرام و ناجائز ہوگا؟ واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المباکفوري،عفي عنہ۔[2] عورت کے لیے باریک کپڑا پہننا جائز نہیں: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ عورت محرم کو باریک کپڑے کا کُرتی اور دوپٹا پہننا منع ہے یا نہیں ؟ یا اگر عورت ایسے گھر میں رہتی ہو کہ جس میں سوائے اس کے خاوند کے اور کسی دوسرے مرد غیر محرم کا گزر بھی نہ ہو اور کل غیر محرم مردوں سے وہ پردہ کرتی ہو اور بغیر اجازت خاوند کے کہیں نہ جاتی ہو تو ایسی صورت میں اگر عورت محرم کُرتی باریک کپڑے کی پہنے تو جائز ہے یا ناجائز؟ جواب:عورتوں کو باریک کپڑا پہننا،جس میں بدن ظاہر ہو،منع ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کپڑے پہننے پر وعید فرمائی ہے: ’’قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:صنفان من أمتي لم أرھما،کاسیات عاریات،مائلات ممیلات،علیٰ رؤسھن أمثال أسنمۃ البخت المائلۃ،لا یرین الجنۃ،ولا یجدون ریحھا‘‘[3] [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری امت میں سے دو قسم کی عورتیں ہوں گی،بہ ظاہر لباس پہنا ہوگا،لیکن حقیقت میں ننگی ہوں گی،خود مردوں پر مائل ہوں گی اور مردوں کو اپنی طرف مائل کریں گی۔ان کے سروں پر اس طرح بال بنائے ہوئے ہوں گے،جیسے اونٹ کی کوہان،وہ نہ جنت کو دیکھیں گی نہ اس کی خوشبو پائیں گی] صاحب نیل الاوطار فرماتے ہیں: ’’قیل:کاسیات من نعمۃ اللّٰه،عاریات من شکرھا،وقیل:معناہ:تستر بعض بدنھا [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۱۵۹) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۱۷۴) [3] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۱۲۸) مسند أحمد (۲/ ۳۵۵)