کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 540
شیخ عبدالحق محدث دہلوی ’’أشعۃ اللمعات‘‘ میں عبد اﷲ بن عمرو کی حدیث کا ترجمہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’و ازیں جا جواز آویختن تعویذات در گردن معلوم می شود،وبعضے علما را دریں جا اختلاف است،مختار آن است کہ تعلیق خرزات و مانند آن حرام و مکروہ است و اما اگر قرآن یا اسمائے الٰہی بنویسند با کے نیست،چنانکہ در رقیہ این تفصیل کردہ اند‘‘[1] [اس سے بچوں کے گلے میں تعویذ لٹکانا جائز معلوم ہوتا ہے،بعض علما نے اس میں اختلاف کیا ہے،لیکن صحیح یہ ہے کہ کوڑیوں وغیرہ کا لٹکانا حرام و مکروہ ہے،لیکن اگر قرآن یا اسماے الٰہی لکھے تو کوئی حرج نہیں ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] اجنبی مرد اور عورت کا باہم اختلاط حرام ہے: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید نے اپنے تئیں درویش زاہد اور خدا پرست بتایا،لیکن وہ علمِ شرع و باطن سے بالکل بے بہرہ ہے،خرقہ درویشی پہن کر اور عادات و اطوار فقیرانہ بنا کر اپنے تئیں ایک پیرِ طریقت و شریعت ظاہر کیا،چنانچہ عمرو اس کا مرید ہوا اور اس درجہ اطاعت و فرمانبرداری میں زید کے قدم رکھا کہ اپنی زوجہ و دختر جوان کو بھی پیر کے سامنے ہونے سے منع نہ کیا۔زید بعمر نوجوان نے عمرو کی زوجہ اور دختر سے اس قدر اختلاط پیدا کیا کہ عمرو کے گھر آنے جانے لگا اور کھانا،پینا اور نشست و برخاست ان کے ساتھ شروع کر دی،بلکہ اب زید کو ایک ساعت بھی بغیر دیکھے عمرو کی زوجہ و دختر کے چین نہیں پڑتا۔اگر زید کی طرف سے کوئی ہرج مرج ہوجاتا ہے تو عمرو کی زوجہ خود زید کو بلاتی ہے اور عمرو اپنی زوجہ و دختر کو زید کی اطاعت کے واسطے حکم تاکیدی دیتا ہے،ایسے اشخاص کی نسبت شرع شریف میں کیا حکم ہے اور ایسے امور جائز ہیں یا نہیں ؟ جواب:عمرو کا اپنی بی بی اور دختر جوان کو زید کے سامنے کرنا اور ان کے ساتھ زید کے اس قدر اختلاط پیدا کرنے سے کہ ’’ان کے ساتھ نشست و برخاست کرے اور ان کے بغیر دیکھے اس کو ایک ساعت بھی چین نہ پڑے اور اس کی طرف سے کچھ ہرج مرج ہو تو عمرو کی زوجہ خود اس کو بلائے‘‘ نہ روکنا،بلکہ اس سے راضی اور خوش رہنا اور اپنی زوجہ اور دختر کو زید کی اطاعت کے واسطے تاکید کرنا سراسر ناجائز و حرام ہے۔جو شخص اپنی زوجہ اور اپنی دختر جوان کو غیر محرم مرد کے سامنے کرے اور اس قسم کے اختلاط سے راضی رہے،وہ پکا دیوث اور فاسق ہے۔وہ غیر محرم مرد بھی فاسق ہے اور اس شخص کی وہ زوجہ اور دختر بھی فاسقہ ہیں۔شریعت میں نا محرم مردوں کو عورتوں کی طرف اور عورتوں کو نامحرم مردوں کی طرف نظر کرنا اور دیکھنا منع ہے تو اس قسم کا اختلاط کس درجہ منع ہوگا؟ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: [1] أشعۃ اللمعات للدھلوي (۲/۳۶۰) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۲۹۸)