کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 539
صحیح یہی ہے کہ جائز ہے۔قرآن شریف کا تعویذ کرنے میں اختلاف ہے،مثلاً:بیمار یا ڈسے ہوئے پر پڑھ کر دم کرے یا کسی کاغذ پر لکھ کر گلے میں ڈالے یا کسی تھال میں لکھ کر مریض کو پلائے تو عطاء،مجاہد،ابو قلابہ اس کو جائز کہتے ہیں اور نخعی اور بصری مکروہ۔گلے میں تعویذ لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہے،البتہ قضائے حاجت کے وقت اس کو اتار دے] سید محمد نذیر حسین هو الموافق عبداﷲ بن عمرو بن عاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص خواب میں ڈرے اور یہ کہے:(( أعوذ بکلمات اللّٰه التامات من غضبہ وعقابہ وشر عبادہ ومن ھمزات الشیاطین وأن یحضرون )) [1] [ میں اﷲ کے کامل کلمات سے اس کے غضب،عذاب اور اس کے بندوں کی برائی اور شیطان کے وسوسوں اور ان کے حاضر ہونے سے پناہ لیتا ہوں ] تو شیاطین کے وسوسے اس کو ضرر نہیں دیں گے۔عبداﷲ بن عمرو اپنے بالغ لڑکوں کو یہ کلمات سکھاتے تھے اور اپنے نابالغ لڑکوں کے لیے ان کلمات کو ایک کاغذ میں لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے۔اس کو ابو داود نے اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی اس کو حسن کہا ہے۔ اس روایت کے تحت میں شراحِ حدیث لکھتے ہیں کہ جس تعویذ میں اﷲ تعالیٰ کا نام لکھا ہو یا قرآن کی کوئی آیت لکھی ہو یا کوئی دعاے ماثور لکھی ہو،سو ایسے تعویذ کا بالغ لڑکوں کے گلے میں لٹکانا درست ہے۔ ملا علی قاری مرقات میں اس حدیث کے تحت میں لکھتے ہیں: ’’وھذا أصل في تعلیق التعویذات التي فیھا أسماء اللّٰه تعالیٰ‘‘[2] [یہ اصل ہے ان تعویذات کے لٹکانے میں،جن میں اسماے الٰہی لکھے ہوں ] نیز حدیث (( الرقیٰ والتمائم و التولۃ شرک )) [3] کے تحت میں لکھتے ہیں: ’’التمائم جمع التمیمۃ،وھي التعویذۃ التي تعلق علیٰ الصبي۔أطلقہ الطیبي،لکن ینبغي أن یقید بأن لا یکون فیھا أسماء اللّٰه تعالیٰ،وآیاتہ المتلوۃ والدعوات المأثورۃ‘‘[4] [تمائم،تمیمہ کی جمع ہے اور وہ تعویذ ہے،جو بچوں کے گلے میں لٹکایا جاتا ہے۔اس میں اﷲ تعالیٰ کے اسما اور قرآن مجید کی آیات اور ماثورہ دعائیں نہیں ہوتیں ] [1] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۳۸۹۳) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۳۵۲۸) اس کی سند شواہد کی بنا پر حسن ہے۔البتہ اس کا بعد والا حصہ جس میں صحابیِِ رسول کے تعویذ لٹکانے کا ذکر ہے،ضعیف ہے،کیوں کہ اس کو بیان کرنے میں ’’محمد بن اسحاق‘‘ منفرد ہے اور وہ مدلس ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیں:السلسلۃ الصحیحۃ (۱/ ۲۶۳) [2] مرقاۃ المفاتیح (۴/ ۱۷۱۶) [3] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۳۸۸۳) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۳۵۳۰) [4] مرقاۃ المفاتیح (۷/ ۲۸۷۸)