کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 532
جماعۃ من الصوفیۃ إلی الترخیص في السماع،ولو مع العود و الیراع‘‘ یعنی غنا کی حلت و حرمت میں علما کا اختلاف ہے،آلاتِ ملا ہی میں سے کسی آلے کے ساتھ ہو یا بدوں اس کے ہو،جمہور علما کے نزدیک حرام ہے اور ان کی دلیل وہ احادیث و روایات ہیں،جو پہلے مذکور ہو چکیں،جبکہ اہلِ مدینہ بعض علمائے ظاہر اور صوفیہ کی ایک جماعت کے نزدیک جائز ہے،اگرچہ عود اور یراع کے ساتھ ہو۔ پھر دلائلِ طرفین کے مع ما لہا و ما علیہا بیان کر کے آخر میں لکھتے ہیں: ’’وإذا تقرر جمیع ما حررناہ من حجج الفریقین فلا یخفیٰ علی الناظر،أن محل النزاع إذا خرج عن دائرۃ الحرام لم یخرج عن دائرۃ الاشتباہ،والمؤمنون وقافون عند الشبھات،کما صرح بہ الحدیث الصحیح،ومن ترکھا فقد استبرأ لعرضہ و دینہ،ومن حام حول الحمیٰ یوشک أن یقع فیہ،ولا سیما إذا کان مشتملاً علی ذکر القدود والخدود والجمال والدلال والھجر والوصال ومعاقرۃ العقار وخلع العذار والوقار،فإن سامع ما کان کذلک لا یخلو عن بلیۃ،وإن کان من التصلب في ذات اللّٰه علی حد یقصر عنہ الوصف،وکم لھذہ الوسیلۃ الشیطانیۃ من قتیل دمہ مطلول و أسیر بھموم غرامہ وھیامہ مکبول،نسأل اللّٰه السداد و الثبات،ومن أراد الاستیفاء للبحث في ھذہ المسألۃ فعلیہ بالرسالۃ التي سمیتھا:إبطال دعویٰ الإجماع علی تحریم مطلق السماع‘‘[1] یعنی جب فریقین کے دلائل کو مع ما لہا و ما علیہا ہم تحریر کر چکے تو اب ناظرین پر مخفی نہیں ہے کہ محلِ نزاع دائرہ حرام سے خارج ہو تو ہو،مگر دائرہ اشتباہ سے خارج نہیں ہو سکتا اور مومنین کی شان یہ ہے کہ شبہات کے پاس ٹھہر جاتے ہیں،جیسا کہ حدیثِ صحیح میں اس کی تصریح آئی ہے۔جو شخص شبہات کو ترک کرتا ہے،وہ اپنی آبرو اور دین کو پاک کرتا ہے اور جو شخص چراگاہ کے گرد گھومتا ہے،اس کا اس میں واقع ہوجانا کچھ بعید نہیں ہے،بالخصوص جبکہ غنا مشتمل ہو ذکرِ قد و قامت اور خدوخال اور بیانِ حسن و جمال اور ہجر و وصال وغیرہ پر،اس واسطے کہ ایسا غنا اور راگ سننے والا بلا اور مصیبت سے خالی نہیں ہو سکتا،اگرچہ نہایت درجہ کا دیندار ہو اور دین میں نہایت سخت ہو،اس شیطانی وسیلے کے کتنے قتیل ہیں،جن کا خون رائیگاں ہے اور کتنے قیدی ہیں،جو اس کے عشق و شیفتگی میں گرفتار و مقید ہیں۔اﷲ تعالیٰ سے ہم میانہ روی اور ثابت قدمی کا سوال کرتے ہیں۔اس مسئلے کی بحث کو پورے طور پر جو شخص دیکھنا چاہے،اس کو ہمارا رسالہ موسومہ ’’إبطال دعوی الإجماع علی تحریم مطلق السماع‘‘ ضرور دیکھنا چاہیے۔ نیل کی ان دونوں عبارتوں سے صاف معلوم ہوا کہ علامہ شوکانی رحمہ اللہ جماعتِ صوفیہ کی طرح اباحتِ مطلقہ کے [1] نیل الأوطار (۸/ ۱۷۹)