کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 53
مورخ اہلِ حدیث مولانامحمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ حضرت محدث مبارک پوری رحمہ اللہ کے اخلاق و عادات کے متعلق مقدمہ ’’تحفۃ الأحوذي‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں: حضرت مولانا رحمہ اللہ عالی کردار اور بلند اخلاق عالمِ دین تھے۔عمدہ ترین عادات و اطوار کے مالک تھے۔تقویٰ شعار،دنیوی مال و متاع سے بے نیاز،کسی کی دولت کو قبول نہ فرماتے۔دنیاکی کوئی حرص ان میں نہ تھی۔نہایت متواضع،منکسر اور ملنسار تھے۔علما و طلبا سے بہ غایت درجہ محبت رکھتے تھے۔ہر طالب علم کی ذہنی اور علمی صلاحیت کا خیال رکھتے اور اس نہج سے بات کرتے جو وہ آسانی سے سمجھ سکتا۔ ’’علما و طلباکے علاوہ غیر تعلیم یافتہ لوگوں سے رابطہ رکھتے۔رشتے داروں اور غیر رشتے داروں سب سے حسنِ سلوک کا برتاؤ فرماتے۔سب کی بات توجہ سے سنتے اورمشورہ لینے والوں کو مفید مشورہ دیتے۔ان کا زیادہ وقت درس تدریس،مطالعہ،تصنیف اور قرآن و حدیث کے مسائل پر غور و تدبر میں صرف ہوتا۔عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مشغول ہوتے۔نرم کلام اور شیریں گفتار تھے۔وقار و متانت کا پیکر اور رعب و جلال کے مالک۔لوگوں سے ملتے اور ان کی ضروری باتیں سنتے،لیکن کسی کو ان کی مجلس میں کسی شخص کی غیبت کرنے یا کسی کے متعلق ناشائستہ الفاظ کہنے کی مجال نہ تھی۔اگر کسی شخص کی زبان سے اس قسم کا کوئی لفظ نکل جاتا تو سخت ناگواری کا اظہار کرتے۔ان اوصاف و کمالات کی وجہ سے لوگ ان سے انتہائی متاثر تھے اور ان کے دلوں میں ان کی بے پناہ قدر تھی۔گونڈہ بستی اور دیگر مقامات کے بہت سے لوگ ان کے حلقہ بیعت میں شامل تھے۔ ’’انھیں تجدد،فیشن اور یورپی تہذیب و ثقافت سے سخت نفرت تھی۔طلبا اور عقیدت مندوں کو مغربی لباس اور طور طریقے سے روکتے اور سادگی کا درس دیتے۔یہ اور اس قسم کی بہت سی باتیں مقدمہ ’’تحفۃ الأحوذي‘‘ میں مرقوم ہیں۔جب مسند درس پر بیٹھ جاتے تو دورانِ درس کوئی کتنا ہی بڑا آدمی آ جاتا،اس کی طرف توجہ نہ فرماتے اور کسی کی پروا کیے بغیر تدریس کا سلسلہ جاری رکھتے۔اختتامِ درس کے بعد اس کی طرف توجہ فرماتے اور اس سے بات چیت کرتے۔‘‘[1] آنکھوں کی بینائی سے محروم ہونے پر محدث مبارکپوری رحمہ اللہ کا صبرِ عظیم: زندگی کے آخری دور میں حضرت محدث مبارک پوری رحمہ اللہ نزول الماء کے عارضے میں مبتلا ہوئے،جس کی وجہ سے آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو گئے۔اس عظیم آزمایش پر کسی قسم کی جزع فزع اور پریشانی کا اظہار نہیں فرمایا،بلکہ صبر فرمایا اور اس پر اجر و ثواب کے طالب و امیدوار ہوئے۔آپ کے عزیزو اقارب اورعقیدت مندوں نے بار بار [1] دبستانِ حدیث،(ص:۱۹۸،۱۹۹)