کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 528
میں عبادت قبول نہ ہوگی۔یہ حدیث کیسی ہے؟ جواب:جس حدیث میں آیا ہے کہ ’’جس شخص نے دس درہم کو کوئی کپڑا خریدا اور اس میں ایک درہم حرام ہے تو اس کی نماز اﷲ تعالیٰ قبول نہیں کرے گا،جب تک وہ کپڑا اس کے بدن پر رہے گا۔‘‘ وہ حدیث ضعیف ہے۔محدث بیہقی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی اسناد ضعیف ہے۔[1] ھذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم وعلمہ أتم کتبہ:محمد عبد الرحمن،عفا اللّٰه عنہ۔ گراموفون کے ریکارڈ میں دعوت و تبلیغ کے لیے قرآن و حدیث رکھنے کا حکم: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ گرامو فون کے ریکارڈ میں قرآن شریف و حدیث مقدس اور وعظ و تقریرِ میلاد وغیرہ بھر کر تبلیغی کام پورا کیا جائے تو جائز ہے یا ناجائز؟ جواب:گراموفون ان آلاتِ غنا میں سے ہے،جو اکثری طور پر عام حالات میں لہو و لعب اور تفریح کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں،اگرچہ نفسِ آلہ بعض مفید کاموں میں استعمال ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے،لیکن اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ اس کا عام رواج اور اکثری استعمال محض لہو و لعب کے طور پر کیا جاتا ہے اور اس کی مجالس میں ہر قسم کے لوگ حظِ سمع اٹھانے کے لیے شریک ہوتے ہیں،لہٰذا اس کے ریکارڈوں میں کوئی متبرک چیزیں بھرنا اور ان کو بیع و شرا کے ذریعے سے عام کر دینا اور ہر قسم کی مجالس میں ریکارڈوں پر قرآن مجید یا حدیث شریف یا وعظ و تقریر کو گانے میں شامل کر دینا،ان مقدس چیزوں کی توہین کرتا ہے۔ریکارڈ پر جو چیز سنی جاتی ہے،اس کی وقعت سننے والے کے قلب میں ایک راگ اور گانے سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اگر مان لیا جائے کہ اس میں تبلیغ کا فائدہ ہوتا ہے تو اس فائدے کی وجہ سے ان دینی مضرتوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،جو ایمان کو سلب کرنے والی ہیں۔فائدہ تو شراب اور قمار میں تھا،لیکن حضرتِ حق نے ان فائدوں کو {وَ اِثْمُھُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا} [البقرۃ:۲۱۹] فرما کر کالعدم کر دیا۔تبلیغ بے شک اسلام میں ایک اہم فریضہ ہے،لیکن اہم سے اہم فرض کو ادا کرنے کے لیے ناجائز ذرائع استعمال نہیں کیے جا سکتے،اس کی مثال ایسی ہے جیسے کچھ روز قبل طوائفوں کے ذریعے سے اسلامی تبلیغ کرانے کے مسئلے میں پیش آچکی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور مقدس سیرت مبارک کی شان اس سے بہت اعلیٰ و ارفع ہے کہ ریکارڈوں میں بھری جائے اور وہ ریکارڈ ایک مشین میں لگا کر ایسے مقامات اور ایسے مجامع میں استعمال کیے جائیں،جو اس مقدس ذکر کے لائق نہ ہوں،بلکہ وہاں اس ذکر کی توہین ہوتی ہو،اس لیے مسلمانوں کو لازم ہے کہ وہ قرآن پاک اور احادیثِ مقدسہ اور متبرک مواعظ و اذکار کے ریکارڈ ہرگز نہ خریدیں اور نہ سنیں اور عموماً گراموفون کو خریدنے اور سننے سے احتراز کریں،کیوں کہ اس میں لہو و لعب کے سوا کوئی مقصد نہیں اور اس کے ذریعے سے سنی ہوئی بات کی دل میں کوئی [1] شعب الإیمان (۵/ ۱۴۲) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’تفرد بہ بقیۃ بإسنادہ ھذا،وھو إسناد ضعیف‘‘