کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 527
ہے۔یہ تھا امام الحرمین کا کلام،اب ان کی اس تحقیق پر مزید کسی اضافے کی ضرورت نہیں ہے] اس ’’واقتلوا الموذي قبل الإیذاء‘‘ کے متعلق مجھے معلوم نہیں کہ یہ قولِ نبوی ہے یا کسی اور کا مقولہ ہے۔ھذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم۔کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري جائز و ناجائز آمدنی کے مشترکہ مال سے کھانے والوں کی عبادت قبول ہوتی ہے یا نہیں ؟ سوال:جائز و ناجائز آمدنی کے مشترکہ مال سے جو لوگ کھا پی کر روزہ نماز ادا کرتے ہیں،وہ عبادت دربارِ خداوندی میں قبول ہوتی ہے یا نہیں ؟ جواب:ناجائز اور حرام آمدنی سے بچنا اور اجتناب کرنا فرض ہے۔مالِ حرام کھانے کے بارے میں بڑی سخت وعید آئی ہے۔صحیح مسلم کی ایک حدیث میں آیا ہے: ((۔۔۔ثم ذکر (یعني رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم)الرجل یطیل السفر أشعث أغبر یمد یدیہ إلی السماء یا رب! یا رب! و مطعمہ حرام،ومشربہ حرام،وملبسہ حرام،وغذي بالحرام فأنی یستجاب لذلک؟! )) [1] اس حدیث کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ جس شخص کا کھانا پینا اور کپڑا حرام ہے اور حرام سے اس نے غذا پائی ہے،سو اس شخص کی دعا قبول نہیں ہوسکتی۔ایک اور حدیث میں آیا ہے: ’’حرام مال سے جو بدن بڑھا ہے اور اس کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہے،وہ بدن جنت میں داخل نہیں ہو گا۔‘‘[2] جو لوگ جائز و ناجائز آمدنی کے مشترکہ مال سے کپڑا خرید کر پہنیں گے اور اس کپڑے سے نماز پڑھیں گے،ان کی نماز قبول نہیں ہوگی،اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے،[3] لیکن ان لوگوں کو بہت ڈرنا چاہیے جو لوگ جائز و ناجائز آمدنی کے مشترکہ مال سے کھا،پی اور پہن کر خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ھذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم وعلمہ أتم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن،عفا اللّٰه عنہ۔ کیا ناجائز لباس میں عبادت قبول نہیں ہوتی؟ سوال:حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس لباس کی قیمت میں دس حصے میں سے ایک حصہ بھی ناجائز ہو گا،اس لباس [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۰۱۵) [2] مسند أحمد (۳/ ۴۲۱) [3] اس کی وضاحت آگے آ رہی ہے۔