کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 526
کتاب الحظر والإباحۃ کیا نقصان پہنچانے والے کتے کو قتل کرنا جائز ہے؟ سوال:ایسا کتا جو لوگوں کا دودھ اور گھی وغیرہ کھا جاتا ہے اور جیسا موقع بنے ویسا نقصان کر جاتا ہے،بموجب ’’اقتلوا الموذي قبل الإیذاء‘‘ [موذی کو اس سے پہلے قتل کر دو کہ وہ کوئی ایذا پہنچائے] کے قتل کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب:ایسے کتوں کو قتل کرنا جائز نہیں ہے،ہاں ان کے نقصان سے بچنے کے لیے ان کو ڈھیلوں،پتھروں اور لکڑیوں سے مار کر بھگانا البتہ جائز ہے اور اگر کلبِ عقور (باؤلا کتا) ہو تو اس کو قتل کرنا ہر حال میں جائز ہے۔مشکاۃ شریف میں ہے: ’’عن جابر قال:أمرنا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم بقتل الکلب‘‘[1] [جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کتوں کو مارنے کا حکم دیا] شرح صحیح مسلم میں ہے: ’’وأما الأمر بقتل الکلاب فقال أصحابنا:إن کان الکلب عقورا قُتِلَ،وإن لم یکن عقورا فلم یجز قتلہ،سواء کان منفعۃ من المنافع أو لم یکن۔قال الإمام المعالي إمام الحرمین:والأمر بقتل الکلاب منسوخ۔قال:وقد صح أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم أمر بقتل الکلاب مرۃ،ثم صح أنہ نھیٰ عن قتلھا۔قال:واستقر الشرع علیہ علی التفصیل الذي ذکرناہ۔قال:وأمر بقتل الأسود،وکان ھذا في الابتداء،وھو الآن منسوخ،ھذا کلام إمام الحرمین ولا مزید علی تحقیقہ ‘‘[2] انتھیٰ [جہاں تک کتوں کو مارنے کا حکم ہے تو ہمارے اصحاب کا کہنا ہے:اگر تو کتا بائولا ہو تو اس کو قتل کیا جائے گا اور اگر وہ بائولا نہ ہو تو اسے قتل کرنا جائز نہیں ہے،خواہ اس میں کوئی منفعت ہو یا نہیں۔امام المعالی امام الحرمین نے کہا ہے:کتوں کو مارنے کا حکم منسوخ ہے۔انھوں نے کہا:یہ درست ہے کہ ایک مرتبہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا،لیکن یہ بھی بات صحیح ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مارنے سے منع کر دیا،انھوں نے کہا ہے:اب شریعت کا حکم اسی پر جاری ہے،اس تفصیل کی بنا پر جو ہم نے ذکر کی ہے۔انھوں نے مزید کہا:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ کتے کو مارنے کا حکم دیا اور یہ حکم ابتدا میں تھا،جب کہ وہ اب منسوخ [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۵۷۲) مشکاۃ المصابیح (۲/ ۴۳۲) [2] شرح صحیح مسلم (۳/۱۸۶)