کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 525
عقیقہ کرنا درست ہے،اس واسطے کہ بیہقی نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت کے بعد اپنا عقیقہ کیا ہے،لیکن بیہقی نے کہا:یہ حدیث منکر ہے اور نووی نے کہا کہ یہ حدیث باطل ہے۔ الحاصل عقیقہ کا وقت جو احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے،وہ ساتواں روز ہے،پس ساتویں ہی روز عقیقہ کرنا متعین ہے،ہاں بریدہ رضی اللہ عنہ کی روایتِ مذکورہ اگر صحیح و لائقِ اعتبار ہے تو چودھویں روز اور اکیسویں روز بھی عقیقہ کرنا حدیث سے ثابت ہو گا۔اور اکیسویں روز کے بعد یا بڑے ہونے کے بعد عقیقہ کرنا کسی حدیث معتبر سے ثابت نہیں ہے اور علما کی آرا اس بارے میں مختلف ہیں،بعض کہتے ہیں کہ اکیسویں روز کے بعد بھی ہوسکتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں۔واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۲۴۴)