کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 521
المرقاۃ،و في شرح السنۃ أن عمر بن عبد العزیز کان یؤذن في الیمنیٰ ویقیم في الیسریٰ إذا ولد الصبي انتھیٰ۔فقط واللّٰه اعلم بالصواب۔ [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوا تو اس کے دائیں کان میں اذان کہے اور بائیں میں تکبیر تو اس بچے کو اُم صبیان کی بیماری نہ ہو گی۔عمر بن عبدالعزیز کے ہاں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو اس کے دائیں کان میں اذان کہتے اور بائیں میں اقامت] حررہ العاجز:أبو محمد عبد الوہاب الفنجابي الجھنگوي ثم الملتاني نزیل الدھلي تجاوز اللّٰه عن ذنبہ الخفي والجلي۔الجواب صحیح۔محمد امیر الدین حنفی واعظ جامع مسجد دہلی محمد امیر الدین ۱۳۰۰ خادمِ شریعت رسول الثقلین محمد تلطف حسین خادمِ شریعت رسول الاجاب ابو محمد عبد الوہاب الجواب صحیح۔عبداللطیف،عفی عنہ عبد اللطیف ۱۲۹۵ الجواب صحیح۔ابو محمد عبدالرؤف بھاری،عفی عنہ عبدالرؤف ۱۳۰۳ سید محمد عبدالسلام غفرلہ عبد الجلیل (عربی) محمد شمس الدین ۱۳۰۵ ابو محمد عبدالحق لودیانوی ۱۳۰۵۔اصل عقیقہ ساتویں روز ہی ہے۔ سید محمد نذیر حسین [1] عقیقے میں گائے ذبح کرنا اور کتنے دن بعد عقیقہ کرنا درست ہے؟ بسم اللّٰه الرحمن الرحیم،حامدا و مصلیا،أما بعد! محبی مکرمی مولوی ابو نعیم عبدالعظیم صاحب غازیپوری یوسف پوری کا رسالہ عقیقہ ہم نے اول سے آخر تک دیکھا،اس رسالے میں مولوی صاحب ممدوح نے اگرچہ عقیقے کے متعدد مسائل و احکام لکھے ہیں،مگر شروع رسالہ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا اس رسالے کی تصنیف سے اصل مقصود اس امر کی تحقیق کرنا ہے کہ ایک گائے میں سات عقیقہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ پس آپ نے بہت وضاحت اور بسط و تفصیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ ایک گائے میں سات عقیقہ جائز نہیں ہے۔میں اس وقت صرف اسی مسئلے کے متعلق کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔پس واضح ہو کہ بے شک ایک گائے یا ایک شتر میں سات عقیقہ یا کم و بیش کے جواز کا کوئی ثبوت صحیح نہیں ہے اور اس کے جواز میں جو ثبوت پیش کیا جاتا ہے،وہ مخدوش اور ناقابلِ وثوق ہے۔ [1] مسند أبي یعلی الموصلي (۱۲/۱۵۰) اس کی سند میں یحییٰ بن علاء اور مروان بن سالم سخت ضعیف ہیں۔