کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 518
گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ ایک بکری کے قائم مقام ہے] 3۔لڑکے کی طرف سے دو بکرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکرا کرنا چاہیے۔ ’’عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ قال:سئل رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم عن العقیقۃ،فقال:لا أحب العقوق،وکأنہ کرہ الإسم،فقالوا:یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم إنما نسألک عن أحدنا یولد لہ،قال:من أحب منکم أن ینسک عن ولدہ فلیفعل،عن الغلام شاتان مکافأتان،وعن الجاریۃ شاۃ۔[1] رواہ أحمد وأبو داود والنسائي‘‘ کذا في منتقی الأخبار،وعن ابن عباس رضی اللّٰه عنہما أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم عق عن الحسن رضی اللّٰه عنہ والحسین رضی اللّٰه عنہ کبشا کبشا۔رواہ أبو داود،والنسائي،وقال:بکبشین۔کذا في منتقیٰ الأخبار۔ [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:میں تو عقوق کو ناپسند کرتا ہوں،گویا آپ نے یہ نام پسند نہ فرمایا،کیوں کہ اس کا مادہ ’’عق‘‘ ہے،جس کے معنی کاٹنے کے ہیں،لوگوں نے کہا:یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم پوچھتے ہیں کہ جب ہم میں سے کسی کے بچہ پیدا ہوتا ہے تو عقیقہ کیا جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا:جو کرنا چاہے کرے،لڑکے سے دو بکریاں برابر اور لڑکی سے ایک بکری کافی ہے۔(احمد،ابو داود،نسائی) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے ایک ایک مینڈھا ذبح کیا تھا] 4۔جمیع احکام اس کے مثل احکام جانور قربانی کے ہیں،کیونکہ حدیث سے کچھ فرق دونوں میں ثابت نہیں ہوتا،مگر جن جن عیوب سے جانور قربانی کا مبرا،یعنی پاک ہونا ضروری ہے،جس کی تفصیل گزر چکی ہے،ان سے جانور عقیقہ کا مبرا ہونا ضروری نہیں ہے،کیونکہ یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔ ’’الثاني:ھل یشترط فیھا ما یشترط في الأضحیۃ؟ وفیہ وجھان للشافعیۃ،وقد استدل بإطلاق الشاتین علیٰ عدم الاشتراط،وھو الحق،لکن لا لھذا الإطلاق،بل لعدم ورود ما یدل ھھنا علیٰ تلک الشروط،والعیوب المذکورۃ في الأضحیۃ وھي أحکام شرعیۃ لا تثبت بدون دلیل‘‘[2] انتھیٰ ما في نیل الأوطار۔ [کیا اس جانور میں بھی وہ شرطیں ہیں،جو قربانی کے جانور میں ہوتی ہیں ؟ اس میں شافعیہ کے دو قول ہیں،چوں کہ یہاں مطلق دو بکریاں فرمایا ہے اور کوئی شرط نہیں لگائی اور یہی صحیح ہے،لیکن مطلق ہونے کی حیثیت سے نہیں،بلکہ اس لیے کہ یہاں کسی شرط اور عیب کا ذکر نہیں کیا،جو قربانی میں کیا ہے اور یہ شرعی احکام ہیں،جو بغیر دلیل کے ثابت نہیں ہوتے] [1] مسند أحمد (۲/ ۱۹۳) سنن النسائي،رقم الحدیث (۴۲۱۲) [2] نیل الأوطار (۵/ ۱۹۸)