کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 517
اس سے عدمِ وجوب ثابت ہوا،کیوں کہ آپ نے اختیار دے دیا جو ایک قرینہ صارفہ ہے کہ یہاں امر وجوب کے لیے نہیں،بلکہ استحباب کے لیے ہے،لیکن یہ مخفی نہیں ہے کہ اختیار تفویض کرنے اور سنت ہونے میں کوئی منافات نہیں ہے] 2۔لڑکے کے پیدا ہونے کے ساتویں دن یا چودھویں دن یا اکیسویں دن عقیقہ کرنا بہتر ہے۔ ’’عن سمرۃ رضی اللّٰه عنہ قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:کل غلام رھینۃ بعقیقۃ،تذبح عنہ یوم سابعہ،ویسمیٰ فیہ،ویحلق رأسہ۔[1] رواہ الخمسۃ،وصححہ الترمذي،کذا في منتقی الأخبار۔۔۔ویدل علیٰ ذلک ما أخرجہ البیھقي عن عبد اللّٰه بن بریدۃ عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:العقیقۃ تذبح لسبع ولأربع عشرۃ ولإحدیٰ و عشرین‘‘[2] انتھیٰ،کذا في نیل الأوطار۔ [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہر لڑکا عقیقہ میں رہن ہے۔ساتویں دن اس سے ذبح کیا جائے اور اس کا سر منڈایا جائے۔ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے۔احمد،نسائی،ابن ماجہ اور ابوداود نے اسے روایت کیا ہے۔دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:عقیقہ ساتویں یا چودھویں یا اکیسویں دن کیا جائے] اگر اکیسویں دن نہ کرے اس سبب سے کہ مقدور نہیں یا کسی دوسرے سبب سے تو جب مقدور ہو کرے،کیونکہ فرمایا اﷲ تعالیٰ نے:{لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَھَا} [البقرۃ:۲۸۶] بلوغ کے بعد باپ وغیرہ سے طلب کرنے کا حق نہیں ہے،خود آپ اپنی طرف سے کرے،کیونکہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت کے بعد اپنا عقیقہ خود کیا ہے۔[3] ’’العقیقۃ سنۃ مؤکدۃ۔۔۔ووقتھا من الولادۃ إلی البلوغ۔۔۔ویسقط الطلب عن الأب،والأحسن أن یعق عن نفسہ تدارکا لما فات،والخبر،أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم عق عن نفسہ بعد النبوۃ باطل،وإن رواہ البیھقي،وتکلم بعض العلماء بصحۃ ھذا الخبر وسبع البدنۃ والبقر کشاۃ‘‘[4] انتھیٰ ما في شرح القویم في شرح مسائل التعلیم لابن حجر الھیتمي الشافعي۔ [عقیقہ سنتِ موکدہ ہے اور اس کا وقت ولادت سے بلوغت تک ہے۔اس وقت باپ سے مطالبہ ساقط ہو جاتا ہے۔بہتر یہ ہے کہ خود اپنا عقیقہ آپ کرے،تاکہ تلافی مافات ہو جائے۔جس حدیث میں مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عقیقہ نبوت کے بعد کیا،وہ باطل ہے اور علما نے اس کی صحت میں کلام کیا ہے۔ [1] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۸۳۷) سنن النسائي،رقم الحدیث (۴۲۲۰) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۳۱۶۵) [2] نیل الأوطار (۵/ ۱۹۳۔۱۹۴) سنن بیہقی کے حوالے سے ’’عبداﷲ بن بریدہ‘‘ والی مذکورہ بالا حدیث ضعیف ہے،جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔ [3] اس روایت کو امام بیہقی نے منکر،جب کہ امام نووی نے باطل کہا ہے۔مزید وضاحت آگے آ رہی ہے۔ [4] المنھج القویم بشرح مسائل التعلیم (ص:۴۸۷۔۴۸۸)