کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 512
ترک اور بند کر دینا ہرگز جائز نہیں ہے۔ ثانیاً:اس وجہ سے کہ ہنود کی دلی خواہش اور کوشش ہے کہ گائے کی قربانی کسی صورت سے مسلمانوں سے بند و ترک کر دی جائے اور اس سنت کو بالکلیہ نیست و نابود کر دیا جائے۔پس اگر مسلمان لوگ انھیں ہنود کے دل خوش کرنے کے لیے گائے کی قربانی ترک کر دیں تو یہ ترک کر دینا اس سنت کے مردہ اور نیست و نابود کرنے پر ہنود کی اعانت کرنا ہے،جو سراسر ناجائز و حرام ہے۔ قال اللّٰه تعالیٰ:{ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ} [المائدۃ:۲] یعنی فرمایا اﷲ تعالیٰ نے کہ نیکی اور پرہیز گاری کے کام پر باہم ایک دوسرے کی اعانت کرو اور گناہ اور زیادتی کے کام پر ایک دوسرے کی اعانت نہ کرو۔ ثالثاً: اس وجہ سے کہ صورتِ مسئولہ میں گائے کی قربانی کا ترک کرنا محض ہنود کی خاطر داری اور دلداری اور ان کے دل خوش کرنے کی غرض و مصلحت سے ہے اور ایسی مصلحت سے ادنیٰ درجہ کی سنت کا ترک کرنا جائز نہیں ہے،پس گائے کی قربانی جیسی سنت کا،جو شعارِ اسلام سے ہے،ترک کرنا کیوں جائز ہوگا؟ رابعاً: اس وجہ سے کہ ہر ایک مسلمان گائے کی قربانی کرنے کا شرعاً مجاز و مختار ہے اور ہر ایک مسلمان کو شرعاً حق اور اختیار حاصل ہے کہ وہ گائے کی قربانی کرے،پس خود بعض مسلمانوں کا گائے کی قربانی کرنے سے روکنا اور اس میں طرح طرح سے کوشش کرنا اور یہ حکم کرنا کہ گائے کی قربانی مت کرو اور بجائے اس کے دوسرے جانور کی قربانی کرو،اسلام کی ایک سنت میں،جو شعارِ اسلام سے ہے،دست اندازی کرنا ہے۔ایسی دست اندازی جائز نہیں ہے اور ایسے ناجائز حکم کا ماننا بھی جائز نہیں ہے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لا طاعۃ في المعصیۃ،وإنما الطاعۃ في المعروف )) [1] (متفق علیہ) اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ ناجائز اور معصیت کے کام میں کسی کی بات اور حکم ماننا نہیں چاہیے اور گائے کی قربانی کے ترک کرنے میں جو یہ مصلحت بتائی جاتی ہے کہ ان میں ہنود کے احسان کا بدلہ اور معاوضہ ہے،یعنی جب ہنود نے مسئلہ خلافت پر بہت شاندار عملی ہمدردی کا اظہار کیا ہے تو اس کا بدلہ یہی ہے کہ اہلِ اسلام گائے کی قربانی ترک و بند کر دیں،سو یہ بات اور یہ مصلحت صحیح و درست نہیں ہے۔ہنود کے اس احسان کا بدلہ اور طرح سے بھی ہوسکتا ہے۔کفار کے کسی احسان کا بدلہ کچھ اسی پر موقوف و منحصر نہیں ہے کہ گائے کی قربانی جیسی سنت،جو شعارِ اسلام سے ہے،ترک اور بند کر دی جائے۔ایسا بدلہ و معاوضہ شرعاً جائز نہیں ہے۔ اور گائے کی قربانی کے ترک کرنے میں دوسری مصلحت جو یہ بتائی گئی ہے کہ ’’اس سے ہنود اور مسلمانوں میں [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۸۳۰) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۸۴۰)