کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 510
اس حدیث سے ہرگز ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ گیارھویں،بارھویں،تیرھویں کو قربانی کرنا ناجائز ہے۔اگر مولوی صاحب موصوف یہ فرمائیں کہ جملہ (( من فعلہ فقد أصاب سنتنا )) سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص نماز کے بعد متصل اس کے قربانی کرے تو اس کی جائز اور مسنون ہے اور جو شخص ایسا نہ کرے اس کی قربانی غیر مسنون و ناجائز ہے،اور گیارھویں،بارھویں،تیرھویں کی قربانی نماز کے متصل ہر گز نہیں،لہٰذا وہ ناجائز ہے تو ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس تقدیر پر لازم آتا ہے کہ بقر عید کے روز کی وہ قربانی بھی ناجائز ہو،جو نماز کے بعد اس کے متصل نہیں کی گئی،بلکہ عرصہ کے بعد عصر کے وقت کی گئی۔واللازم باطل،فالملزوم مثلہ۔ المختصر گیارھویں،بارھویں،تیرھویں ذی الحجہ کو قربانی کرنا بلاشبہہ جائز ہے اور اس کا عدمِ جواز کسی صحیح دلیل سے ثابت نہیں۔ھذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم[1] کتبہ:أبو العلیٰ محمد عبدالرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔از مقام کٹونہ،ضلع پٹنہ گائے کی قربانی پر پابندی لگانا اور اس پر عمل کرنا: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ ہم لوگوں نے بہ نیت خالص و بہ نیت ادائے فریضہ ربانی گائے کو واسطے قربانی کے خرید کیا اور زمانے کی حالت سے واقف تھے،نہ ترکِ موالات ذبیحہ قربانی کو مانع ہے اور نہ خلافت کمیٹی مانع ہے،لہٰذا کونسی مصلحت در پیش ہے جس کے سبب سے مصلحتاً قربانی گائے کی بند کیا جاتا ہے۔ابتدا میں خلافت کمیٹی نے یہ حکم دیا تھا کہ مذہبی روک کسی قسم کا نہ ہوگا،لہٰذا ایسی صورت میں علمائے دین کا کیا حکم ہے؟ آیا ذبیحہ قربانی گائے کیا جائے یا نہیں ؟ ۷/ ذی الحجہ ۳۹ھ یوم جمعہ جواب:قبل اس کے کہ اس سوال کا جواب لکھا جائے،چند باتوں کا لکھ دینا ضروری معلوم ہوتا ہے،پہلے ان باتوں کو معلوم کر لو،پھر بعد اس کے سوال کا جواب پڑھو: 1۔اس میں کوئی شبہہ نہیں ہے کہ گائے کی قربانی کا مشروع و مامور ہونا قرآن و حدیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گائے کی قربانی کی ہے اور اس کا حکم فرمایا ہے،نیز صحابہ رضی اللہ عنہم نے گائے کی قربانی کی ہے اور تابعین و تبع تابعین اور ائمہ دین نے گائے کی ہے اور اس کا حکم کیا ہے۔تمام اسلامی دنیا میں آج تک قربانی گائے کی ہوتی چلی آئی ہے،اسی طرح پر بھیڑ اونٹ اور بکرا بکری وغیرہ کی قربانی کا حال ہے اور گائے کی قربانی کرنا سنت یا واجب اور شعارِ اسلامی سے ہے،جیسا کہ اونٹ،دنبے وغیرہ کی قربانی سنت یا واجب اور شعارِ اسلام سے ہے۔ 2۔لیکن ہمارے ملک ہندوستان کے ہنود و کفار کو گائے کی قربانی ہونے سے بہت بے چینی ہوتی ہے اور ان کے دلوں کو بہت صدمہ ہوتا ہے،اس وجہ سے ہنود اور کفار کی دلی خواہش اور تمنا اور ہر طرح ان کی سعی و کوشش یہی [1] ماہنامہ ’’ضیاء السنۃ‘‘ کلکتہ (ماہ جمادی الاخری ۱۳۲۳ھ)