کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 508
دوسری روایت یہ ہے کہ ایامِ معلومات سے مراد چار دن ہیں۔یومِ نحر اور اس کے بعد تین دن۔یہ روایت عطا کے طریق سے مروی ہے۔تفسیر معالم التنزیل میں ہے: ’’وفي روایۃ عطاء أنھا یوم النحر وثلاثۃ أیام بعدہ‘‘[1] [عطا کی روایت میں ہے کہ وہ یومِ نحر اور اس کے بعد تین ایام ہیں ] اسی دوسری روایت کے مثل حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔تفسیر معالم التنزیل میں ہے: ’’ویروی عن علي أنھا یوم النحر وثلاثۃ أیام بعدہ‘‘[2] [علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ یومِ نحر اور اس کے بعد تین دن ہیں ] پس جب ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایامِ معلومات کی تفسیر میں یہ دونوں مختلف روایتیں آئی ہیں اور ان کی دوسری روایت کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے،پس ابن عباس رضی اللہ عنہما کی پہلی روایت کی بنیاد پر آیت {وَ یَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ} سے گیارھویں،بارھویں،تیرھویں ذی الحجہ کی قربانی کو ناجائز بتانا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ یہاں واضح ہے کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کی دوسری ہی روایت مرجح بلکہ متعین ٹھہرتی ہے،کیوں کہ وہ پوری اس طرح ہے: ’’وأذن في الناس بالحج یأتوک رجالا وعلی کل ضامر یأتین من کل فج عمیق،لیشہدوا منافع لھم ویذکروا اسم اللّٰه في أیام معلومات علی ما رزقھم من بھیمۃ الأنعام،فکلوا منھا وأطعموا البائس الفقیر‘‘ ظاہر ہے کہ اس آیت میں {عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ} ’’یذکروا‘‘ کے متعلق ہے اور ذکر اسم اﷲ سے مراد تسمیہ ’’عند ذبح الہدایا والضحایا‘‘ ہے۔پس مطلب یہ ہوا کہ چند معلوم دنوں میں ضحایا اور ہدایا کے ذبح کے وقت اﷲ کا نام لیں،بنا بریں اس آیت سے صراحتاً معلوم ہوا کہ قربانی کے کئی دن ہیں،فقط ایک ہی دن نہیں،جس سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی دوسری تفسیر کا مرجح،بلکہ متعین ہونا صاف ظاہر ہے۔علامہ قسطلانی شرح بخاری میں لکھتے ہیں: ’’ویذکروا اسم اللّٰه عند إعداد الھدایا والضحایا،وذبحھا في أیام معلومات عشر ذي الحجۃ أو یوم النحر وثلاثۃ أیام بعدہ،ویعضد الثاني قولہ:{عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ م بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ} فإن المراد التسمیۃ عند ذبح الھدایا والضحایا‘‘[3] [وہ ہدایا و ضحایا کی تیاری پر اﷲ کے نام ذکر کریں اور ان کو ذی الحج کے دس معلوم ایام میں یا یومِ نحر اور اس کے بعد تین دن میں ان کو ذبح کریں۔دوسرے کی تائید اس فرمانِ باری تعالیٰ سے ہوتی ہے:{عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ [1] معالم التنزیل (۵/ ۳۷۹) [2] المصدر السابق۔ [3] إرشاد الساري للقسطلاني (۳/ ۲۲۸)