کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 507
خلاصہ اس جواب کا یہ ہے کہ ’’النحر‘‘ میں الف و لام کمال کے لیے ہے اور الف و لام کمال کے واسطے کثرت سے استعمال ہوتا ہے،جیسا کہ آیت {وَلٰکِنَّ الْبِرَّ۔۔۔} میں اور حدیث:(( وإنما الشدید الذي یملک نفسہ۔۔۔)) [1] میں ہے۔اسی سبب سے کہا گیا ہے کہ ان دونوں میں پہلا دن افضل ہے۔علامہ ممدوح پھر لکھتے ہیں: ’’وقال القرطبي:التمسک بإضافۃ النحر إلی الیوم الأول ضعیف مع قولہ تعالیٰ:{وَ یَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْم بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ} [الحج:۲۸][2] خلاصہ اس کا یہ ہے کہ آیت {وَ یَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ۔۔۔الخ} سے ثابت ہوتا ہے کہ قربانی کے چند معلوم دن ہیں،پس اس آیت کے ہوتے ہوئے یومِ اول کی طرف ’’نحر‘‘ کی اضافت سے استدلال کرنا ضعیف ہے۔ علامہ عینی شرح بخاری میں لکھتے ہیں: ’’وقال ابن بطال:لیس استدلال من استدل بقولہ علیہ السلام۔۔۔بشيء،لأن النحر في أیام منی قد فعلہ الخلف والسلف،وجری علیہ العمل في جمیع الأمصار‘‘[3] یعنی ابن بطال نے کہا ہے کہ جس شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول ’’یوم النحر‘‘ سے استدلال کیا ہے،ان کا یہ استدلال کچھ نہیں ہے،کیونکہ ایامِ منیٰ میں قربانی کرنا خلف اور سلف کا فعل ہے اور تمام امصار میں اسی پر عمل جاری ہے۔ داود ظاہری وغیرہ کی یہی ایک دلیل ہے جس کی حقیقت ظاہر ہوچکی۔مولوی عبدالرحمان صاحب پشاوری نے اس دلیل کے علاوہ دو دلیلیں اور بھی تلاش کر کے پیش کی ہیں،اب ان کی حقیقت ظاہر کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: [قولہ تعالیٰ {وَ یَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ} اور ایامِ معلومات کی تفسیر بخاری شریف میں یوں آئی ہے:’’قال ابن عباس:أیام معلومات عشر ذي الحجۃ‘‘ یعنی ایام معلومات دس روز اول ذی الحجہ کے ہوئے۔جس میں سے قربانی ایک ہی روز،یعنی دسویں میں روز بقر عید کے ثابت ہوئی۔اس لیے قبل صلاۃِ عید کے قربانی ہوتی ہی نہیں،فقط ایک ہی دن عید کی قربانی ثابت ہوتی ہے۔من خالف ھذا فھو معاند و معارض] میں کہتا ہوں کہ ایامِ معلومات کی تفسیر میں ابن عباس سے دو روایتیں آئی ہیں۔ایک تو وہی جس کو امام بخاری نے معلقاً روایت کیا ہے،یعنی ایامِ معلومات سے مراد عشرہ ذی الحجہ ہے اور یہ روایت سعید بن جبیر کے طریق سے ہے۔[4] [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۷۶۳) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۶۰۹) [2] إرشاد الساري (۸/ ۳۰۱) [3] عمدۃ القاري (۲۱/ ۱۴۸) [4] التفسیر الکبیر (۲۳/ ۲۲۴)