کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 503
اس کی قربانی درست نہیں ہے۔فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ’’وقیل:إذا نزا ظبي علیٰ شاۃ أھلیۃ فإن ولدت شاۃ تجوز التضحیۃ،وإن کانت ظبیا لا تجوز‘‘[1] انتھیٰ [اگر ہرن بکری سے مجامعت کرے تو اگر بکری کا بچہ بکری کے مشابہ ہو تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر ہرن کے مشابہ ہو تو جائز نہیں ہے] یہی قول حق معلوم ہوتا ہے،کیونکہ بکری کی قربانی کا حکم ہے اور ہرن کی قربانی جائز نہیں،لیکن اگر ایسا بچہ ہوا کہ نہ اس کو بکری کہہ سکتے ہیں اور نہ ہرن تو اس کی بھی قربانی جائز نہیں ہے۔ھذا ما عندي،واﷲ تعالیٰ أعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] کیا کافروں کی دل شکنی کی وجہ سے گائے کی قربانی ترک کر دینا جائز ہے؟ سوال:کافروں کی دل شکنی کی وجہ سے گائے کی قربانی ترک کر دینا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟ خصوصاً ایسے وقت میں کہ تمام قصبات اور شہروں میں سیکڑوں گائیں روز مرہ کھانے کے لیے ذبح ہوتی ہیں اور اگر بالفرض تمام قصبوں اور شہروں میں گائے ذبح کرنا موقوف ہوجائے تو ایسی صورت میں مسلمانوں کو کافروں کی دل جوئی کے لیے گائے کی قربانی ترک کر دینا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟ سائل:محمد اسماعیل،از موضع ٹکرا عثمان،تحصیل نواب گنج،ضلع بارہ بنکی جواب:کافروں کی دل شکنی کے خیال سے یا کافروں کی دل جوئی کے لیے قربانی ترک کر دینا شرعاً ہر گز جائز نہیں ہے،اگرچہ تمام قصبات اور شہروں میں گائے کا ذبح کرنا موقوف ہوجائے۔آج کل ملک ہندوستان میں کافروں کی دل جوئی کے لیے جن مسلمانوں نے گائے کی قربانی ترک کر دی ہے یا ترک کرنے کو جائز و درست بتاتے ہیں،وہ میرے نزدیک سخت غلطی پر ہیں۔واللّٰه تعالیٰ أعلم کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔(۱۴/ ربیع الأول ۱۳۳۹ھ) قربانی کتنے دن تک کرنا درست ہے؟ جواب فتویٰ مولوی عبدالرحمن صاحب (مدرس مدرسہ مفتاح الہدی،صدر بازار دہلی) از قدوۃ العلماء المحققین و عمدۃ البلغاء المدققین و جامع العلوم الشرعیۃ ومکمل الفنون الادبیۃ مولانا ابو العلیٰ محمد عبدالرحمن صاحب مبارکپوری الحمد للّٰه رب العالمین،والصلاۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد وآلہ وأصحابہ [1] الفتاویٰ الھندیۃ (۵/ ۲۹۷) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۲۴۱)