کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 501
’’یندب لبس أحسن الثیاب والتطیب بأجود الأطیاب في یوم العید،ویزید في الأضحیٰ الضحیۃ بأسمن ما یجد،لما أخرجہ الحاکم من حدیث الحسن السبط قال:أمرنا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم في العیدین أن نلبس أجود ما نجد،وأن نتطیب بأجود ما نجد وأن نضحي بأسمن ما نجد،البقرۃ عن سبعۃ والجزور عن عشرۃ،وأن نظھر التکبیر والسکینۃ والوقار۔قال الحاکم بعد إخراجہ من طریق إسحاق بن بزرج:لولا جھالۃ إسحاق ھذا،لحکمت للحدیث بالصحۃ۔قلت:ولیس بمجھول،فقد ضعفہ الأزدي ووثقہ ابن حبان،ذکرہ في التلخیص‘‘[1] [بہترین کپڑے پہننا اور بہترین خوشبو لگانا عید کے روز مستحب ہے اور قربانی کی عید میں یہ بھی مستحب ہے کہ موٹی تازی قربانی کی جائے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کے متعلق ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے بہترین کپڑے پہنیں،اپنی بہترین خوشبو لگائیں اور سب سے موٹی قربانی کریں۔گائے سات آدمیوں کی طرف سے اور اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے اور تکبیریں بلند آواز سے پڑھیں اور سکینت اور وقار کو ہاتھ سے نہ جانے دیں ] جامع ترمذی میں ہے: ’’عن حجیۃ بن عدي عن علي قال:البقرۃ عن سبعۃ۔قلت:فإن ولدت؟ قال:اذبح ولدھا معھا۔قلت:فالعرجاء؟ قال:إذا بلغت المنسک۔۔۔الحدیث‘‘[2] اس حدیث کا ترجمہ بقدرِ ضرورت یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بقرہ سات آدمی کی طرف سے جائز ہے اور لنگڑا جانور اگر منسک،یعنی مصلی تک پہنچ سکے تو اس کی قربانی جائز ہے۔ حضرت علی کی اس حدیث سے بھی بحالتِ اقامت مختلف بیوت سے سات آدمیوں کی شرکت کا جواز ثابت ہوتا ہے،کیونکہ اس میں نہ سفر کی قید ہے نہ حج و عمرہ کی،بلکہ اس حدیث میں لفظ ’’إذا بلغت المنسک‘‘ سے اس حدیث کا حضر سے متعلق ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ سفر اور ہدی کے سوا شرکت جائز نہیں۔۔۔۔الخ ان کا یہ قول صحیح نہیں ہے،نیز یہ لوگ جو اپنے اس قول کے ثبوت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث مذکور اور جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث مذکور سے استدلال کرتے ہیں،سو ان کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے،کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سفر کے ساتھ اور جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہدی کے ساتھ [1] المعجم الکبیر (۳/ ۹۰) المستدرک (۴/ ۲۵۶) شعب الإیمان (۳/ ۳۴۲) امام حاکم رحمہ اللہ کا قول راجح ہے کہ اس کی سند میں اسحاق بن بزرج مجہول ہے،کیوں کہ امام ابن ابی حاتم نے بھی اسے کسی قسم کی جرح و تعدیل کے بغیر ذکر کیا ہے اور امام ازدی نے بھی ضعیف قرار دیا ہے۔رہا امام ابن حبان کا اسے کتاب الثقات میں ذکر کرنا تو اس بارے میں ان کا تساہل معروف و معلوم ہے،لہٰذا یہ حدیث ضعیف ہے۔ [2] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۵۰۳)