کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 500
[عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ عید الاضحی آگئی،چنانچہ ہم سات سات آدمی ایک گائے اور دس دس آد می ایک اونٹ (کی قربانی) میں شریک ہوئے] نیز جابر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث پیش کرتے ہیں: ’’عن جابر أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:البقرۃ عن سبعۃ،والجزور عن سبعۃ‘‘[1] [جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بلاشبہہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’گائے سات آدمیوں کی طرف سے اور اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربانی کی جائے‘‘] ایک اور روایت،جو موطا امام مالک میں ہے،پیش کرتے ہیں: ’’قال یحییٰ:قال مالک۔۔۔إلیٰ أن قال:فأما أن یشتري النفر البدنۃ أو البقرۃ أو الشاۃ،ویشترکون فیھا في النسک والضحایا فیخرج کل إنسان منھم حصتہ من ثمنھا،ویکون لہ حصتہ من لحمھا فإن ذلک یکرہ،وإنما سمعنا الحدیث أنہ لا یشترک في النسک،وإنما یکون عن أھل البیت الواحد۔مالک عن ابن شھاب أنہ قال:ما نحر رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم عنہ وعن أھل بیتہ إلا بدنۃ واحدۃ أو بقرۃ واحدۃ۔[2] قال مالک:لا أدري أیتھما قال ابن شھاب؟‘‘[3] [یحییٰ نے کہا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:۔۔۔یہاں تک کہ انھوں نے کہا:اگر اس طرح ہو کہ ایک جماعت مل کر اونٹ یا گائے یا بکری خریدے اور وہ نسک و ضحایا میں مشترک ہو جائیں،ان میں سے ہر شخص اپنی دی ہوئی قیمت کا حصہ نکال لے اور اس کو اسی کے برابر گوشت کا حصہ ملے گا تو یہ مکروہ ہے۔ہم نے حدیث سنی ہے کہ نسک میں اشتراک نہیں ہو گا،وہ تو صرف ایک گھر والوں کی طرف سے ہو گی۔مالک نے ابن شہاب سے بیان کیا کہ انھوں نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اور اپنے اہلِ بیت کی طرف سے ایک اونٹ یا ایک گائے کی قربانی دی۔مالک کہتے ہیں:مجھے نہیں معلوم کہ ان میں سے کون سی بات ابن شہاب نے کہی ہے] مرسلہ:مولوی عبدالعلیم مالدھی از محلہ چیت گنج شہر بنارس مسجد مولوی نذیر الدین صاحب جواب:بحالتِ اقامت ایک بقرہ (گائے بیل) میں مختلف بیوت میں سے سات آدمی کی شرکت جائز ہے۔سبل السلام (۱/ ۱۷۶) میں ہے: [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۳۵۰) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۸۰۸) [2] امام ابن شہاب زہری کے ارسال کی بنا پر یہ حدیث ضعیف ہے۔ [3] موطأ الإمام مالک (۲/ ۴۸۶)