کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 499
گائے اور اونٹ کی قربانی میں کتنے آدمی شامل ہو سکتے ہیں ؟ سوال:گائے میں سات آدمی اور اونٹ میں دس آدمی کے شریک ہونے کا حکم خاص ہدی میں ثابت ہے یا قربانی میں بھی ثابت ہے؟ جواب:قربانی میں بھی ثابت ہے۔سبل السلام (۱/ ۱۷۶) میں ہے: ’’یندب لبس أحسن الثیاب،والتطیب بأجود الأطیاب في یوم العید،ویزید في الأضحٰی الضحیۃ بأسمن ما یجد،لما أخرجہ الحاکم من حدیث الحسن السبط قال:أمرنا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم في العیدین أن نلبس أجود ما نجد،وأن نتطیب بأجود ما نجد،و أن نضحي بأسمن ما نجد:البقرۃ عن سبعۃ،والجزور عن عشرۃ،وأن نظھر التکبیر و علینا السکینۃ والوقار۔قال الحاکم بعد إخراجہ من طریق إسحاق بن بزرج:لو لا جھالۃ إسحاق ھذا لحکمت للحدیث بالصحۃ۔قلت:ولیس بمجھول،فقد ضعفہ الأزدي،ووثقہ ابن حبان۔ذکرہ في التلخیص۔[1] انتھیٰ واللّٰه أعلم وعلمہ أتم۔ [بہترین کپڑے پہننا اور بہترین خوشبو لگانا عید کے روز مستحب ہے اور قربانی کی عید میں یہ بھی مستحب ہے کہ موٹی تازی قربانی کی جائے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کے متعلق ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے بہترین کپڑے پہنیں،اپنی بہترین خوشبو لگائیں اور سب سے موٹی قربانی کریں۔گائے سات آدمیوں کی طرف سے اور اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے اور تکبیریں بلند آواز سے پڑھیں اور سکینت اور وقار کو ہاتھ سے نہ جانے دیں ] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] سید محمد نذیر حسین حالتِ اقامت میں گائے میں سات قربانیوں کی شراکت درست ہے: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک بقرہ میں سات آدمی کی مختلف بیوت میں سے بحالتِ اقامت شرکت جائز ہے یا نہیں ؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سفر اور ہدی کے سوا شرکت جائز نہیں،بلکہ قربانی نہیں ہوگی اور ثبوت میں ابن عباس کی یہ حدیث پیش کرتے ہیں: ’’عن ابن عباس رضی اللّٰه عنہ قال:کنا مع رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم في سفر فحضر الأضحیٰ فاشترکنا في البقرۃ سبعۃ وفي البعیر عشرۃ‘‘[3] [1] المستدرک للحاکم (۴/ ۲۵۷) نیز دیکھیں:المعجم الکبیر (۳/ ۹۱) امام حاکم اور ذہبی رحمہم اللہ نے اس کی سند میں ایک راوی ’’اسحاق بن بزرج‘‘ کو مجہول بتایا ہے۔کسی نے اس کی توثیق نہیں کی اور اکیلے امام ابن حبان کی توثیق معتبر نہیں،کیوں کہ وہ کثرت سے مجہول راویوں کو ثقات میں ذکر کر دیتے ہیں،لہٰذا یہ حدیث ضعیف ہے۔ [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۲۴۰) [3] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۵۰۱) سنن النسائي،رقم الحدیث (۴۳۹۲) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۳۱۳۱)