کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 498
ہے،اگرچہ وہ دو سال کے پورے نہ ہوں۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں: ’’قال:أھل اللغۃ:المسن الثني الذي یلقي سنہ،ویکون في ذات الخف في السنۃ السادسۃ،وفي ذات الظلف والحافر في السنۃ الثالثۃ‘‘[1] انتھیٰ [اہلِ لغت نے کہا ہے:مسنہ وہ جانور ہے جو اپنے دانت گرا دے۔یہ عمل بڑے بڑے ٹاپ والے جانوروں (اونٹ) میں چھٹے سال میں ہوتا ہے اور کھر،ناخن والے جانوروں (گائے،بکری) میں تیسرے سال میں ہوتا ہے] صحاح جوہری میں ہے: ’’الثني الذي یلقي ثنیتہ ویکون ذلک في الظلف والحافر في السنۃ الثالثۃ وفي الخف في السنۃ السادسۃ‘‘[2] انتھیٰ [ثنی وہ جانور ہے جو اپنے اگلے دو دانت گرا دے۔یہ عمل ناخن اور کھر والے جانوروں (گائے،بکری) میں تیسرے سال اور بڑے ٹاپ والے جانوروں (اونٹ) میں چھٹے سال میں ہوتا ہے] نیز محکم میں ہے: ’’الثني من الإبل الذي یلقی ثنیتہ وذلک في السادسۃ،ومن الغنم الداخل في السنۃ الثالثۃ تیسا کان أو کبشا‘‘[3] انتھیٰ [اونٹ میں ثنی وہ ہے جو اپنے اگلے دو دانت گرا دے۔یہ ایسا چھٹے سال میں ہوتا ہے اور بکری میں جب وہ تیسرے سال میں داخل ہو جائے،خواہ وہ بکرا ہو یا مینڈھا] واضح رہے کہ اہلِ لغت نے جو یہ لکھا ہے کہ بکری اور گائے بیل اس وقت مسنہ اور ثنی ہوتے ہیں،جبکہ وہ تیسرے سال میں داخل ہوں اور اونٹ اس وقت مسنہ اور ثنی ہوتا ہے جبکہ چھٹے سال میں داخل ہو تو ان کی یہ تعیین و تحدید باعتبار اپنے ملک اور آب و ہوا کے ہے۔بعض ملکوں میں ایسا ہی ہوتا ہے اور بعض ملکوں میں دو برس سے کم میں بکری اور گائے بیل کے دانت گر جاتے ہیں،پس اصل اعتبار دانت گرا دینے کا ہے۔مسنہ اور ثنی کے معنی میں کسی خاص برس اور عمر کی قید نہیں ہے۔اگر گائے بیل تیسرے برس میں داخل ہوجائیں اور اگلے دانت نہ گرائیں تو ان کی قربانی ہرگز جائز نہیں ہے۔ھذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ أملاہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ [1] فتح الباري (۱۰/ ۱۴) [2] الصحاح للجوھري (۷/ ۱۴۵) [3] المحکم والمحیط الأعظم (۱۰/ ۱۹۹)