کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 497
بارے میں ان کا اتفاق و اجماع ہے،البتہ اضیحہ (عید کی قربانی) کے بارے میں انھوں نے اختلاف کیا ہے،چنانچہ ابوحنیفہ،شافعی اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اونٹ کی قربانی افضل ہے،پھر گائے،پھر بھیڑ بکری کی ہدایا کی طرح،جب کہ امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ بکری افضل ہے،پھر گائے،پھر اونٹ،ان کا کہنا ہے کہ اس لیے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے قربانی کیے تھے اور اسماعیل علیہ السلام کے فدیے میں بھی مینڈھا ہی دیا گیا تھا] حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں: ’’وفیہ،أي:في حدیث أبي ھریرۃ المذکور أن التقرّب بالإبل أفضل من التقرب بالبقر،وھو بالاتفاق في الھدي،واختلف في الضحایا،والجمھور علی أنھا کذلک،وقال الزین بن المنیر:فرق مالک بین التقربین باختلاف المقصودین،لأن أصل مشروعیۃ الأضحیۃ التذکیر بقصۃ الذبیح،وھو قد فدی بالغنم،والمقصود بالھدي التوسعۃ علی المساکین فناسب البدن‘‘[1] انتھی،واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی مذکورہ بالا حدیث میں ہے کہ اونٹ (کی قربانی) دے کر تقرب حاصل کرنا گائے کے ساتھ تقرب حاصل کرنے سے افضل ہے۔چنانچہ ہدی کے بارے میں تو یہ اتفاقی موقف ہے،البتہ عام قربانیوں کے بارے میں اختلاف ہے۔جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ضحایا میں بھی اسی طرح ہے،جب کہ زین بن منیر نے کہا ہے:امام مالک نے دونوں قربانیوں کے مقاصد مختلف ہونے کا فرق کیا ہے،اس لیے کہ عام قربانی کی مشروعیت میں اصل ذبیح علیہ السلام کے قصے کی یاد دہانی ہے،جن کے فدیے میں بکری (یا مینڈھا) کی قربانی دی تھی،جبکہ ہدی سے مقصود مساکین پر وسعت کرنا ہے تو اس کے لیے اونٹ ہی مناسب ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔(۱۴/ ربیع الأول ۱۳۳۹ھ) قربانی کے جانور کی عمر: سوال:شرعاً قربانی کے جانور کی عمر سال کے حساب سے معتبر ہے یا دانت کے حساب سے؟ مرسلہ:مولوی عبدالعلیم مالدھی از محلہ چیت گنج شہر بنارس مسجد مولوی نذیر الدین صاحب جواب:شرعاً قربانی کے جانور کی عمر دانت کے حساب سے معتبر ہے۔احادیثِ صحیحہ صریحہ سے ثابت ہے کہ قربانی کے جائز ہونے کے لیے قربانی کے جانور کا مسنہ اور ثنیہ ہونا ضروری ہے۔مسنہ اور ثنیہ اس جانور کو کہتے ہیں،جو دودھ کے اگلے دونوں دانت گرا دے،پس جب بکری یا بکرا اگلے دانت گرا دے تو اس کی قربانی بلاشبہہ جائز و درست ہے،اگرچہ ایک سال کا پورا نہ ہوا ہو،اسی طرح گائے بیل جب اگلے دانت گرا دیں تو ان کی قربانی درست [1] فتح الباري (۲/ ۳۶۸)