کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 496
کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] کون سے جانور کی قربانی کرنا زیادہ بہتر ہے؟ سوال:دنبہ،بھیڑ،بکریوں کی قربانی بہتر ہے یا گائے اور اونٹ کی؟ جواب:اونٹ کی قربانی افضل و بہتر ہے،پھر گائے کی قربانی افضل و بہتر ہے،پھر دنبہ بھیڑ،بکریوں کی قربانی افضل ہے۔یہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ اور جمہور علما کا مذہب ہے اور میرے نزدیک یہی قول راجح ہے۔مشکات میں ہے: عن أبي ھریرۃ قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( إذا کان یوم الجمعۃ وقفت الملائکۃ علیٰ باب المسجد یکتبون الأول فالأول،ومثل المھجر کمثل الذي یھدي بدنۃ،ثم کالذي یھدي بقرۃ،ثم کبشا،ثم دجاجۃ،ثم بیضۃ؛ فإذا خرج الإمام طووا الصحف،و یستمعون الذکر )) [2] [ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب جمعے کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں،پہلے اور اس کے بعد آنے والوں کے ثواب کو لکھتے رہتے ہیں۔صبح سویرے آنے والے کو اونٹ کی قربانی ذبح کرنے والے کی طرح،اس کے بعد گائے والے کی طرح،پھر مینڈھا قربانی کرنے والے کی طرح،اس کے بعد مرغی اور اس کے بعد انڈا اﷲ کی راہ میں دینے کا ثواب ملتا ہے،لیکن جب امام خطبے کے لیے برآمد ہوتا ہے تو فرشتے دفاتر لپیٹ کر ذکرِ الٰہی سننے میں مصروف ہو جاتے ہیں ] عمدۃ القاری شرح بخاری میں علامہ عینی لکھتے ہیں: ’’وفیہ،أي في حدیث أبي ھریرۃ المذکور،أن التضحیۃ من الإبل أفضل من البقر؛ لأنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم قدمھا أولا،وتلاھا بالبقرۃ،وأجمعوا علیہ في الھدایا،واختلفوا في الأضحیۃ؛ فمذھب أبي حنیفۃ والشافعي والجمھور أن الإبل أفضل،ثم البقر،ثم الغنم کالھدایا،ومذھب مالک أن الغنم أفضل،ثم البقر،ثم الإبل؛ قالوا:لأن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم ضحی بکبشین،وھو فداء إسماعیل علیہ الصلاۃ والسلام‘‘[3] [ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی مذکورہ بالا حدیث میں ہے کہ اونٹ کی قربانی گائے کی قربانی سے افضل ہے،کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مقدم رکھا ہے،اس کے بعد گائے کا ذکر کیا ہے،ہدایا (حج کی قربانی) کے [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۲۴۴) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۸۸۷) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۵۰) [3] عمدۃ القاري (۶/ ۱۷۳)