کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 495
’’عن عطاء بن یسار قال:سألت أبا أیوب الأنصاري:کیف کانت الضحایا فیکم علیٰ عھد رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ؟ قال:کان الرجل في عھد النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم یضحي بالشاۃ عنہ،وعن أھل بیتہ،فیأکلون ویطعمون،حتی تباھیٰ الناس فصار کما تری‘‘ رواہ ابن ماجہ والترمذي وصححہ۔[1] [عطا بن یسار نے ابو ایوب انصاری سے پوچھا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تمھاری قربانیاں کیسی ہوا کرتی تھیں ؟ کہنے لگے:ایک آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتا تھا،چنانچہ وہ خود بھی کھاتے اور لوگوں کو بھی کھلاتے،پھر لوگ اس میں فخر کرنے لگے۔اب جو حالت ہے،وہ تم دیکھ ہی رہے ہو] سنن ابو داود میں ہے: ’’عن جابر بن عبد اللّٰه قال:شھدت مع رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم الأضحیٰ بالمصلیٰ فلما قضیٰ خطبتہ نزل عن منبرہ،وأتي بکبش فذبحہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم بیدہ،وقال:بسم اللّٰه واللّٰه أکبر،ھذا عني وعن من لم یضح عن أمتي‘‘[2] [جابر بن عبداﷲ کہتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدگاہ میں گیا،جب آپ نے خطبہ مکمل کر لیا تو منبر سے اترے پھر ایک مینڈھا لایا گیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اسے ذبح کیا اور کہا:’’بسم اﷲ واﷲ اکبر‘‘ یہ میری طرف سے اور میری امت کے ہر اس آدمی کی طرف سے ہے،جو قربانی نہ کر سکے] قاضی شوکانی پہلی حدیث کے تحت نیل الاوطار میں لکھتے ہیں: ’’فیہ دلیل علی أن الشاۃ تجزئ عن أھل البیت،لأن الصحابۃ کانوا یفعلون ذلک في عھدہ صلیٰ اللّٰه علیہ وسلم،والظاھر اطلاعہ فلا ینکر علیھم،ویدل علیٰ ذلک أیضاً حدیث:علیٰ کل أھل بیت في کل عام أضحیۃ۔۔۔إلی قولہ:والحق أنھا تجزئ عن أھل البیت،وإن کانوا مائۃ نفس أو أکثر،کما قضت بذلک السنۃ‘‘[3] انتھیٰ،واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ [اس میں دلیل ہے کہ ایک بکری ایک گھر کی طرف سے کافی ہے،کیوں کہ صحابہ ایسا کیا کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع تھی۔آپ نے ان پر انکار نہیں کیا،نیز یہ حدیث بھی دلیل ہے کہ ہر سال میں ہر گھر والے پر ایک قربانی ہے۔سچ یہ ہے کہ گھر والوں کی طرف سے ایک ہی بکری کافی ہے،اگرچہ وہ سو یا سو سے بھی زیادہ افراد ہوں،سنت نے یہی فیصلہ کیا ہے] [1] نیل الأوطار (۵/ ۱۸۱) نیز دیکھیں:سنن الترمذي،رقم الحدیث (۳۱۴۷) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۵۰۵) [2] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۸۱۰) [3] نیل الأوطار (۵/ ۱۸۲)