کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 492
حنفی مذہب میں بھی ان سب عیوب سے خالی ہونا چاہیے اور سوا اس کے دم بھی اس کی نصف سے زیادہ کٹی نہ ہو،مگر یہ کہ سینگ کٹے ہوں یا کان پھٹا،یہ حنفی مذہب میں عیب نہیں ہے۔کان آدھے سے زیادہ کٹا ہو،تب عیب ہے،ورنہ نہیں۔ ’’ولا یضحیٰ بالعمیاء والعوراء والعرجاء التي لا تمشي إلیٰ المنسک ولا العجفاء۔ولا تجزیٔ مقطوعۃ الأذن والذنب۔۔۔ولا التي ذھب أکثر أذنھا وذنبھا،وإن بقي أکثر الأذن والذنب جائز۔۔۔ویجوز أن یضحیٰ بالجماء‘‘[1] انتھیٰ ما في الھدایۃ۔ [اندھا،کانا،لنگڑا جانور قربانی میں ذبح نہ کیا جائے،جو چل بھی نہ سکتا ہو۔کان اور دُم کٹا نہ ہو،اگر ان کا اکثر حصہ کٹا ہوا ہو تو جائز نہیں ہے اور اگر اکثر حصہ موجود ہو تو جائز ہے] عیوب جب معتبر ہیں کہ وقت خریدنے کے موجود ہوں اور جب وقت خریدنے کے جمیع عیوب مذکور سے مبرا تھا اور بہ نیت قربانی کے جمیع عیوب سے سالم خرید لیا،تب کوئی نیا عیب حادث ہوا تو اس کی قربانی صحیح ہے،جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: ’’وعن أبي سعید رضی اللّٰه عنہ قال:اشتریت کبشا أضحي بہ فعدی الذئب فأخذ الألیۃ قال:فسألت النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم فقال:ضح بہ۔[2] رواہ أحمد،وھو دلیل علیٰ أن العیب الحادث بعد التعین لا یضر‘‘[3] انتھیٰ کذا في المنتقیٰ۔ [میں نے قربانی کے لیے ایک مینڈھا خریدا تو بھیڑیے نے اس پر حملہ کیا اور اس کا ایک چوتڑ کاٹ کر لے گیا۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (مسئلہ) دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم اس کی قربانی کر لو۔‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ قربانی کے جانور کی تعیین کے بعد پیدا ہونے والا عیب ضرر رساں نہیں ہے] حنفی مذہب میں امیر ہے تو دوسری بدل لے اور غریب کے لیے وہی صحیح و کافی ہے۔ ’’وھذا الذي ذکرنا إذا کانت ھذہ العیوب قائمۃ وقت الشراء،ولو اشتراھا سلیمۃ،ثم تعیب بعیب مانع،إن کان غنیا علیہ غیرہ،وإن کان فقیرا تجزئہ ھذہ،لأن الوجوب علیٰ الغني بالشرع ابتداء لا بالشراء فلم تتعین بہ،وعلیٰ الفقیر بشرائہ بنیۃ الأضحیۃ فتعینت‘‘[4] انتھی ما في الھدایۃ۔ [یہ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے یہ تب ہے جب جانور خریدتے وقت یہ عیب موجود ہوں،اگر اس نے صحیح و سالم [1] الھدایۃ (۴/ ۷۳۔۷۴) [2] مسند أحمد (۳/ ۳۲) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۳۱۴۶) اس کی سند میں جابر جعفی راوی کذاب ہے۔نیز اس حدیث کی ایک دوسری سند بھی ہے،لیکن وہ ’’حجاج بن ارطاۃ‘‘ اور ’’عطیہ عوفی‘‘ کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔ [3] نیل الأوطار (۵/ ۱۷۷) [4] الھدایۃ (۴/ ۷۴) دیکھیں:مسند أحمد (۳/ ۴۳)