کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 490
نہ کریں،جب تک کہ عید کی نماز پڑھی جائے اور دیہات والے فجر کے بعد ذبح کر سکتے ہیں ] [1] 4۔اس بکری کا ایک سال،یعنی ایک سال پورا اور دوسرا شروع اور گائے اور بھینس کا دو سال،یعنی دو سال پورے اور تیسرا شروع اور اونٹ کا پانچ سال اور چھٹا شروع ہونا چاہیے اور بھیڑ ایک سال سے کم کی بھی جائز ہے،بشرط کہ خوب موٹی اور تازی ہو کہ سال بھر کی معلوم ہوتی ہو،اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے کہ سال سے کم کی قربانی نہ کرو اور ضرورت کے وقت بھیڑ کا جذعہ کر لو۔ ’’عن جابر رضی اللّٰه عنہ قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( لا یجوز إلا مسنۃ إلا أن یعسر علیکم فتذبحوا جذعۃ من الضأن )) رواہ الجماعۃ إلا البخاري‘‘[2] کذا في منتقیٰ الأخبار۔ [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قربانی میں مسنہ کے سوا جانور جائز نہیں ہے،اگر نہ مل سکے تو بھیڑ کا جذعہ ذبح کر لو] ’’مسنہ‘‘ ہر جانور میں سے ’’ثنی‘‘ کو کہتے ہیں اور ثنی کہتے ہیں بکری میں سے جو ایک سال کا ہو اور دوسرا شروع اور گائے بھینس میں جو دو سال کی ہو،تیسرا شروع اور اونٹ کا جو پانچ سال کا ہو اور چھٹا شروع ہو۔ ’’قولہ:إلا مسنۃ۔قال العلماء:المسنۃ ھي الثنیۃ من کل شيء من الإبل والبقر والغنم‘‘ انتھیٰ ما في نیل الأوطار۔ [علما نے کہا:مسنہ ہر جانور میں سے ’’ثني‘‘ کو کہتے ہیں،خواہ اونٹ ہو یا گائے یا بکری] ’’والثني من الشاۃ ما دخل في السنۃ الثانیۃ‘‘ کذا في مفردات القرآن للإمام الراغب القاسم الحسین وھو المقدم علیٰ الغزالي والقاضي ناصر الدین البیضاوي‘‘ [،بکری کا مسنہ وہ ہے،جو دوسرے سال میں لگا ہو] منتہیٰ الارب میں ہے:’’ثني،کغني،شتر در سال ششم در آمدہ‘‘ انتھیٰ [ثني،غني کی طرح ہے۔وہ اونٹ جو چھٹے سال میں داخل ہو چکا ہو] ’’والثني منھا ومن المعز ابن سنۃ،ومن البقر ابن سنتین،ومن الإبل ابن خمس سنین،ویدخل في البقر الجاموس،لأنہ من جنسہ‘‘[3] انتھیٰ ما في الھدایۃ۔ [بھیڑ اور بکری سے مسنہ وہ ہے،جو ایک سال کا ہو اور گائے سے وہ ہے،جو دو سال کا ہو اور اونٹ سے جو پانچ سال کا ہو اور بھینس گائے کے حکم میں ہے] جذعہ بھیڑ میں سے اس کو کہتے ہیں،جو سال سے کم ہو: [1] لیکن دیہات والوں کے لیے یہ رخصت کشید کرنا حدیثِ نبوی کے خلاف ہے،کیوں کہ اس میں شہر دیہات کا فرق کیے بغیر تمام مسلمانوں کے لیے یکساں حکم بیان کیا گیا ہے۔ [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۹۶۳) [3] الھدایۃ (۴/ ۷۵)